سوال و جواب تلاش کریں
Exact matches only
Search in title
Search in content
Search in comments
Search in excerpt
Search in posts
Search in pages
Search in groups
Search in users
Search in forums
Filter by Custom Post Type
جلد منتخب کریں
جلد اول
جلد چہارم
جلد دوم
جلد سوم
متفرق
ترتیب برائے موضوعات

دیگر موضوعات

متفرق سوالات و جوابات

قطبین کے قریب مقامات میں نماز روزے کے اوقات

سوال: میرا ایک لڑکا ٹریننگ کے سلسلے میں انگلستان گیا ہوا ہے، آج کل وہ ایک ایسی جگہ قیام رکھتا ہے جو قطب شمالی سے بہت قریب ہے۔ وہ نمازوں اور روزوں کے اوقات کے لیے ایک اصولی ضابطہ چاہتا ہے۔ بارش، بادل اور دھند کی کثرت سے وہاں سورج بالعموم بہت کم دکھائی دیتا ہے۔ کبھی دن بہت بڑے ہوتے ہیں، کبھی بہت چھوٹے۔بعض حالات میں طلوع آفتاب اور غروب آفتاب میں بیس گھنٹے کا فصل ہوگیا ہے۔ تو کیا ایسی صورت میں بیس گھنٹے یا اس سے زائد روزہ رکھنا ہوگا؟

بہانہ جوئی کے لیے روایات کے سہارے

سوال: میں نے اپنے بعض اعزہ اور بزرگوں کی خدمت میں فریضہ اقامت دین کی اہمیت واضح کرنے کی کوشش شروع کر رکھی ہے۔ اس سلسلہ میں میرا تبادلہ خیال ایک ایسے رشتہ دار سے ہوا…

تبلیغی جماعت کے ساتھ تعاون

سوال: ایک بات عرصہ سے میرے ذہن میں گشت کر رہی ہے جو بسا اوقات میرے لیے ایک فکر کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ میں اللہ سے خصوصی طور پر اس امر کے لیے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان ذی علم اور باصلاحیت حضرات کو اس طرف متوجہ کر دے جن کی کوششوں میں بہت سی تاثیر پوشیدہ ہے، جن کے قلب و دماغ کی طاقت سے بہت کچھ بن سکتا ہے اور بگڑ سکتا ہے۔ امت کی اصلاح بھی ہو سکتی ہے، تفرقے بھی مٹ سکتے ہیں، تعمیری انقلاب بھی برپا ہو سکتا ہے اور وہ سب کچھ ہو سکتا ہے جو ناممکن نظر آتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کی قوت فکر کی یکجائی اور ہم آہنگی کے لیے ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں۔

تحقیق حدیث دجال

سوال: ترجمان القرآن میں کسی صاحب نے سوال کیا تھا کہ ’’کانے دجال کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کہیں مقید ہے، تو آخر وہ کونسی جگہ ہے؟ آج دنیا کا کونہ کونہ انسان نے چھان مارا ہے۔ پھر کیوں کانے دجال کا پتہ نہیں چلتا؟‘‘ اس کا جواب آپ کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ ’’کانا دجال وغیرہ تو افسانے ہیں جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے‘‘۔ لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے، کم از کم تیس روایات میں دجال کا تذکرہ موجود ہے، جس کی تصدیق بخاری شریف، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، شرعی السنہ بیہقی کے ملاحظہ سے کی جاسکتی ہے۔ پھر آپ کا جواب کس سند پر مبنی ہے؟

عورت کی عصمت و عفت کا مستقبل

سوال: مارننگ نیوز (کراچی) کا ایک کٹنگ ارسال خدمت ہے۔ اس میں انگلستان کی عدالت طلاق کے ایک سابق جج سرہربرٹ ولنگٹن نے اپنے ایک فیصلہ میں ایک مکمل بیوی کی چودہ خصوصیات گنائی ہیں جن کی تفصیل یہ ہے۔ صوری کشش، عقلمندی، محبت، نرم خوئی، شفقت، خوش اطواری، جذبہ تعاون، صبر و تحمل، غور وفکر، بے غرضی، خندہ روئی، ایثار، کام کی لگن اور وفاداری۔

سرہربرٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ یہ تمام خصوصیات ان کی دوسری بیوی میں موجود تھیں جس سے انہوں نے اگست ۱۹۴۵ء میں اپنی پہلی بیوی کے انتقال کے بعد شادی کی تھی۔ سرہربرٹ نے اپنی عدالت میں سینکڑوں ناکام شادیوں کو فسخ کیا ہے ۸۶ برس کی عمر پاکر جنوری ۱۹۶۲ء میں وفات پاگئے ہیں۔

اس کٹنگ سے واضح ہوتا ہے کہ سرہربرٹ نے عفت یا پاکدامنی جیسی خوبی کو ان چودہ نکاتی فہرست میں برائے نام بھی داخل کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ گویا اب پاک دامنی کا شمار عورت کی خوبیوں میں نہیں کیا جاتا۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک عورت پاک دامنی کے بغیر کس طرح خاوند کی وفادار رہ سکتی ہے؟

شادی بیاہ میں کفاء ت کا لحاظ

سوال: ترجمان القرآن بابت ذی القعدہ و ذی الحجہ ۱۳۷۰ھ میں آپ نے مولانا ظفر احمد صاحب عثمانی کے جواب میں ایک جگہ ایسے تسامح سے کام لیا ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ مولانا موصوف نے آپ سے دریافت کیا تھاکہ ’’کیا ایک سید ہندوستان میں رہنے کی وجہ سے سید نہ رہے گا بلکہ جُلاہا بن جائے گا؟ ‘‘ میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ آپ نے بھی جواب میں دبی زبان سے اس غیر اسلامی امتیاز کو یہ کہہ کر تسلیم کرلیا کہ ’’دارالکفر کے ایک سید صاحب، دارالاسلام کی ایک سیدانی کے باعتبار نسب کفو ہی سہی۔‘‘ آپ کے الفاظ مبہم ہیں۔ کیا آپ بھی مسئلہ کفو کو اسلام میں جائز سمجھتے ہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو آپ قرآن و حدیث سے استشہاد پیش فرماکر میرا اطمینان فرمائیں۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ دنیا کے کام کاج اور پیشوں کو انسانیت کی اونچ نیچ میں کیوں دخل ہو؟ بنی نوع انسان سب آدمؑ کی اولاد ہیں۔ کیا حضرت داؤدؑ نے اگر لوہے کا کام کیا ہے تو وہ لوہار ٹھہریں گے؟

تعبیر دستور کا حق

سوال: دستور کی تعبیر کا حق کس کو ہونا چاہیے؟ مقننہ کو یا عدلیہ کو؟ سابق دستور میں یہ حق عدلیہ کو تھا اور موجودہ دستور میں یہ حق عدلیہ سے چھین کر مقننہ کو ہی دے دیا گیا ہے۔ اس پر یہ اعتراض کیا گیا کہ عدالتوں کے اختیارات کو کم کر دیا گیا ہے اور یہ حق عدلیہ کے پاس باقی رہنا چاہیے۔ اس مسئلہ پر ایک صاحب نے یہ فرمایا ہے کہ اسلام کے دورِ اول میں عدالتوں کا کام صرف مقدمات کا فیصلہ کرنا تھا۔ قانون کی تشریح اور تعبیر کا حق عدالتوں کو نہ تھا اور نہ عدالتیں یہ طے کرنے کی مجاز تھیں کہ قانون صحیح ہے یا غلط۔ یہ رائے کہاں تک درست ہے۱؎۔

زیادہ پڑھے گئے سوال و جواب

مہر غیر مؤجل کا حکم

سوال:اگر بوقت نکاح زر مہر کی صرف تعداد مقرر کردی گئی اور اس امر کی تصریح نہ کی گئی ہو کہ یہ مہر معّجل ہے یا مؤجل تو آیا اس کو معّجل قرار دیا جائے گا…

بندوق کے شکار کی حلت و حرمت

سوال: آپ نے تفہیم القرآن میں تکبیر پڑھ کر چھوڑی ہوئی بندوق کے مرے ہوئے شکار کو حلال لکھ کر ایک نئی بات کا اختراع کیاہے جس پر مندرجہ ذیل سوالات اٹھ رہے ہیں مہربانی فرما…

مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل

سوال: میری نظر سے ’’ترجمان القرآن‘‘ کا ایک پرانا پرچہ گزرا تھا جس میں انگلستان کے ایک طالب علم نے گوشت وغیرہ کھانے کے متعلق اپنی مشکلات پیش کی تھیں جس کے جواب میں آنجناب نے فرمایا تھا کہ وہ یہودیوں کا ذبیحہ یا مچھلی کا گوشت کھایا کرے۔ مجھے یہاں موخرالذکر معاملہ یعنی مچھلی غیر ذبح شدہ پر آپ سے کچھ عرض کرنا ہے۔ کیوں کہ غالباً آپ بھی جمہور مسلمانان کی طرح اس کا گوشت کھانا حلال خیال فرماتے ہیں۔

تحقیق حدیث دجال

سوال: ترجمان القرآن میں کسی صاحب نے سوال کیا تھا کہ ’’کانے دجال کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کہیں مقید ہے، تو آخر وہ کونسی جگہ ہے؟ آج دنیا کا کونہ کونہ انسان نے چھان مارا ہے۔ پھر کیوں کانے دجال کا پتہ نہیں چلتا؟‘‘ اس کا جواب آپ کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ ’’کانا دجال وغیرہ تو افسانے ہیں جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے‘‘۔ لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے، کم از کم تیس روایات میں دجال کا تذکرہ موجود ہے، جس کی تصدیق بخاری شریف، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، شرعی السنہ بیہقی کے ملاحظہ سے کی جاسکتی ہے۔ پھر آپ کا جواب کس سند پر مبنی ہے؟

چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب

سوال:نبی کریمﷺ کی مقدس احادیث کے لیے میرے دل میں احترام کا جذبہ کسی کٹر سے کٹر اہل حدیث سے کم نہیں۔ اسی لیے ہر وقت دعا مانگتا رہتا ہوں کہ خدا مجھے منکرین حدیث کے فتنے سے بچائے۔ لیکن چند احادیث کے متعلق ہمیشہ میرے دل میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ امید ہے کہ آنجناب ازراہ کرم ان احادیث اور ان سے متعلق میرے شبہات کو ملاحظہ فرمائیں گے اور ان کی وضاحت فرماکر میری پریشانی و بے اطمینانی رفع فرمادیں گے۔ شکر گزار ہوں گا۔

زکوٰۃ کی حقیقت اور اس کے اصولی احکام

سوال نامہ:
(۱) زکوٰۃ کی تعریف کیا ہے؟

(۲) کن کن لوگوں پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟ اس سلسلے میں عورتوں، نابالغوں، قیدیوں، مسافروں، فاتر العقل افراد اور مستامنوں یعنی غیر ملک میں مقیم لوگوں کی حیثیت کیا ہے۔ وضاحت سے بیان کیجیے؟

(۳) زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے کتنی عمر کے شخص کو بالغ سمجھنا چاہیے؟

(۴) زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے عورت کے ذاتی استعمال کے زیور کی کیا حیثیت ہے؟

(۵) کیا کمپنیوں کو زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے یا ہر حصے دار کو اپنے اپنے حصے کے مطابق فرداً فرداً زکوٰۃ ادا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟

(۶) کارخانوں اور دوسرے تجارتی اداروں پر زکوٰۃ کے واجب ہونے کی حدود بیان کیجیے؟

(۷) جن کمپنیوں کے حصص ناقابل انتقال ہیں، ان کے سلسلے میں تشخیص زکوٰۃ کے وقت کس پر زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہوگی؟ حصص خریدنے والے پر یا فروخت کرنے والے پر؟

(۸) کن کن اثاثوں اور چیزوں پر اور موجودہ سماجی حالت کے پیش نظر کن کن حالات میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟ بالخصوص ان چیزوں کے بارے میں یا ان سے پیدا شدہ حالات میں کیا صورت ہوگی؟

قرآن پاک میں چوری کی سزا

سوال: اس خط کے ہمراہ ایک مضمون ’’قرآن میں چور کی سزا‘‘ کے عنوان سے بھیج رہا ہوں۔ اگر ممکن ہو تو آپ اسے اپنے ماہنامہ میں شائع فرمادیں۔ میرا مقصد یہ ہے کہ مختلف لوگ اس پر اظہار خیال کریں اور اکثریت اگر میرے ساتھ متفق ہو تو پھر زنا کے جرم کے بارے میں بھی اسی طرح کی تشریح کی جائے۔

ڈاؤن لوڈ کریں

رسائل و مسائل کی تمام جلدیں اپنے کمپیوٹر میں محفوظ کریں