سوال و جواب تلاش کریں
Exact matches only
Search in title
Search in content
Search in comments
Search in excerpt
Search in posts
Search in pages
Search in groups
Search in users
Search in forums
Filter by Custom Post Type
جلد منتخب کریں
جلد اول
جلد چہارم
جلد دوم
متفرق
ترتیب برائے موضوعات

دیگر موضوعات

متفرق سوالات و جوابات

حدیث اور فقہ

سوال: ذیل میں آپ کے لٹریچر سے چند اقتباسات دربارہ مسئلے تقلید و اجتہاد و مرتب کرکے کچھ استفسارات کئے جاتے ہیں۔ان سے صرف علمی تحقیق مقصود ہے، بحث مدعا نہیں ہے:

۱۔ ’’تمام مسلمان چاروں فقہوں کو برحق مانتے ہیں۔ البتہ یہ ظاہر ہے کہ ایک معاملے میں ایک ہی طریقہ کی پیروی کی جاسکتی ہے۔ اس لئے علماء نے طے کر دیا ہے کہ مسلمانوں کو ان چاروں میں سے کسی ایک ہی پیروی کرنی چاہئے۔‘‘ (رسالہ دینیات طبع دوم ۱۲۵)

اتباع علماء و صلحاء

سوال: ایک عالم دین اپنی کتاب میں فرماتے ہیں کہ ’’شرک کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ علماء اور صلحاء کو امام اور ہادی مان کر ان کے اقوال کو اللہ کے قول کی طرح…

دارالکفر میں مسلمانوں کی مشکلات

سوال: برطانیہ کے قیام کے دوران میں احکام شریعت کی پابندی میں مجھے مندرجہ ذیل دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ براہ کرم صحیح رہنمائی فرماکر ممنون فرمائیں۔

(۱) پہلی دقت طہارت اور نماز کے بارے میں ہے۔ مجھے سویرے نو بجے اپنے ہوٹل سے نکلنا پڑتا ہے۔ اب اگر شہر میں گھومتے ہوئے رفع حاجت کی ضرورت پڑے تو ہر جگہ انگریزی طرز کے بیت الخلاء بنے ہوئے ہیں، جہاں کھڑے ہو کر پیشاب کرنا پڑتا ہے۔ اس سے کپڑوں پر چھینٹیں پڑنا لازمی ہے۔ اجابت کے لیے کاغذ میسر ہوتے ہیں، ایک بجے ظہر کا وقت ہوتا ہے۔ اس وقت پانی کسی عام جگہ دستیاب نہیں ہوسکتا اور بندرگاہ تک آنے جانے کے لیے زحمت کے علاوہ کم از کم ایک شلنگ خرچ ہوجاتا ہے۔ نماز کے لیے کوئی پاک جگہ بھی نہیں مل سکتی۔ ہوٹل میں گو پانی اور لوٹا میسر ہیں مگر پتلون کی وجہ سے استنجا نہیں ہوسکتا، البتہ وضو کیا جاسکتا ہے، مگر اس میں بھی یہ دقت ہے کہ پانی زمین پر نہ گرے۔ ہاتھ دھونے سے لے کر سر کے مسح تک تو خیر باسن (انگریزی بیسن) میں کام ہوجاتا ہے۔ لیکن پاؤں دھونے کے لیے باسن پر رکھنے پڑتے ہیں جو یہاں کی معاشرت کے لحاظ سے نہایت معیوب ہے۔

احادیث کی تحقیق میں اسناد اور تفقہ کا دخل

سوال: خط و کتابت کے کئی مراحل طے ہوچکے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی اطمینان بخش صورت ظاہر نہ ہوئی۔ تاہم اس خط سے محض ایک سوال کے حل پر ساری بحث ختم ہوسکتی ہے۔ قابل غور امر یہ ہے کہ حدیث و فقہ کا ہم پلہ ہونا، اسناد حدیث میں خامیوں کا پایا جانا وغیرہ مضامین آپ کی نظر میں بنیادی ہیں یا فروعی؟اگر اصولی اور بنیادی ہیں جیسا کہ جماعت کے مستقل کتابی لٹریچر میں اس کی اشاعت سے اندازہ ہوتا ہے تو پھر کسی مخالفت کا اندیشہ کیے بغیر جماعت اہل حدیث روایت کے باب میں جو غلو رکھتی ہے اس کی اصلاح و تنقید کے لیے پورا زور قلم صرف کیجیے۔ جیسا کہ آپ نے لیگ اور کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کیا ہے۔ باقی رہا جماعت کے اندر اور باہر کا دروازہ کھل جانے کا اندیشہ تو یہ کوئی نئی بات نہ ہوگی۔ کیونکہ اب سے پہلے بھی اخبار اہل حدیث امرتسر میں ’’تصدیق اہل حدیث‘‘ کے عنوان سے اس پر تنقید ہوچکی ہے اور اب بھی ایک مولوی صاحب…… میں تفہیمات کے اقتباسات(مسلک اعتدال) سنا سنا کر جماعت اسلامی کے ہم خیال اہل حدیث افراد میں بد دلی پیدا کر رہے ہیں اور پوری طرح فتنے کا سامان پیدا ہوگیا ہے اور جماعتی ترقی میں مزاحمت ہو رہی ہے۔

رشوت وخیانت کے متعلق چند مزید مسائل

سوال: رشوت و خیانت کے متعلق ترجمان القرآن کے ایک گزشتہ پرچہ میں رسائل و مسائل کے زیر عنوان آپ نے جن مسائل پر بحث کی ہے انہیں کے متعلق چند مزید سوالات مجھے درپیش ہیں۔ امید ہے کہ آپ ان کے مدلل جوابات سے میرے اور میرے بعض رفقاء کے شبہات کو دور فرما دیں گے۔

اسلام کے مآخذ قانون اور تعبیر و اجتہاد

سوال: ڈاکٹر محمصانی بیروت کے پروفیسر برائے قانون، جو حکومت پاکستان کی دعوت پر اس ملک میں تشریف لائے، انہوں نے اسلامی قانون پر کراچی میں ایک تقریر کی۔ عرب ممالک میں قانونی ارتقاء کے تین ادوار، خلافت، دور عثمانی اور جدید زمانے کا تذکرہ کر کے انہوں نے اس پر بحث کی کہ زمانے کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق اسلامی قانون میں تبدیلی ممکن ہے یا نہیں۔ ان کی بحث کا ماحصل یہ تھا کہ اسلامی قانون کے دو حصے ہیں۔ ایک خالص مذہبی، دوسرا معاشرتی، جہاں تک مذہبی قانون کا تعلق ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی کیوں کہ وہ کبھی نہ بدلنے والے حقائق پر مشتمل ہے، مثلاً توحید، عبادات وغیرہ۔ معاشرتی قانون دو مآخذ پر مبنی ہے۔ ایک اجتہاد اور دوسرے قرآن و حدیث، اجتہاد ہر زمانے کی ضروریات کے مطابق بدلتا رہتا ہے اور بدلنا چاہیے۔ احادیث میں سب سے پہلے سوال صحیح و غیر صحیح کا ہے، پھر صحیح احادیث بھی دو قسم کی ہیں۔ لازمی (Obilgatory) اور اختیاری یا مشاورتی (Permissive) پس آخر کار بحث ان احکام کی رہ جاتی ہے جو یا تو قرآن مجید پر یا صحیح احادیث پر مبنی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا ان دونوں چیزوں کے… الفاظ کو نہیں (کیوں کہ وہ علیٰ حالہٖ موجود ہیں اور تبدیل نہیں کیے جاسکتے) … سوسائٹی کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق نئی تعبیر (Interpretation) دی جاسکتی ہے؟ ڈاکٹر محمصانی نے کہا ہے کہ اس بارے میں فقہا کے دو گروہ ہیں۔ (۱) اکثریت کی رائے یہ ہے کہ آیات قرآنی اور احادیث صحیح کو نئے معنی نہیں پہنائے جاسکتے (۲) اقلیت کا استدلال یہ ہے کہ قانون ایک معاشرتی عمرانی سائنس ہے لہٰذا جیسے جیسے معاشرت و عمرانیات میں تبدیلی ہوتی جائے، قانون کو بھی بدلنا چاہیے، ورنہ وہ زمانے سے اپنا رشتہ توڑ بیٹھے گا۔ اسلام ترقی، تہذیب اور بہبود عامہ کا دین ہے اور اس کی یہ خصوصیات باقی نہیں رہتیں، اگر ہم اس کے بارے میں قدامت کا رویہ اختیار کریں۔ اپنے اس دعوے کے ثبوت میں انہوں نے دو مثالیں بطور نمونہ پیش کیں اور بتایا کہ نہایت کثرت سے انہوں نے ایسی نظیریں اپنی کتاب … (Philosophy of Islamic Jurisprudance) میں دی ہیں۔

کمپنیوں کے حصوں میں زکوٰۃ کا مسئلہ

سوال: کسی مشترکہ کاروبار مثلاً کسی کمپنی کے حصص کی زکوٰۃ کا مسئلہ سمجھ میں نہیں آ سکا۔ حصہ بجائے خود تو کوئی قیمتی چیز نہیں ہے، محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے۔ صرف اس دستاویز کے ذریعے حصہ دار کمپنی کی املاک و جائیداد مشترکہ میں شامل ہو کر بقدر اپنے حصہ کے مالک یا حصہ دار قرار پاتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کمپنی کے املاک کیا اور کس نوعیت کے ہیں۔ اگر کمپنی کی جائیداد تعمیرات (بلڈنگ) اراضیات اور مشینری پر مشتمل ہو تو حصہ دار کی شراکت بھی ایسے املاک کی ہوگی جس پر آپ کے بیان کردہ اصول کے ماتحت زکوٰۃ نہیں آتی۔حصہ دار کے حصہ کی مالیت تو ضرور ہے لیکن وہ اس تمام مالیت کا جزو ہے جو غیر منقولہ جائیداد کی شکل میں کمپنی کومجموعی حیثیت سے حاصل ہے۔ پھر حصہ دار کے حصے پر زکوٰۃ کیوں عائد ہونی چاہیے۔

زیادہ پڑھے گئے سوال و جواب

مہر غیر مؤجل کا حکم

سوال:اگر بوقت نکاح زر مہر کی صرف تعداد مقرر کردی گئی اور اس امر کی تصریح نہ کی گئی ہو کہ یہ مہر معّجل ہے یا مؤجل تو آیا اس کو معّجل قرار دیا جائے گا…

بندوق کے شکار کی حلت و حرمت

سوال: آپ نے تفہیم القرآن میں تکبیر پڑھ کر چھوڑی ہوئی بندوق کے مرے ہوئے شکار کو حلال لکھ کر ایک نئی بات کا اختراع کیاہے جس پر مندرجہ ذیل سوالات اٹھ رہے ہیں مہربانی فرما…

تحقیق حدیث دجال

سوال: ترجمان القرآن میں کسی صاحب نے سوال کیا تھا کہ ’’کانے دجال کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کہیں مقید ہے، تو آخر وہ کونسی جگہ ہے؟ آج دنیا کا کونہ کونہ انسان نے چھان مارا ہے۔ پھر کیوں کانے دجال کا پتہ نہیں چلتا؟‘‘ اس کا جواب آپ کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ ’’کانا دجال وغیرہ تو افسانے ہیں جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے‘‘۔ لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے، کم از کم تیس روایات میں دجال کا تذکرہ موجود ہے، جس کی تصدیق بخاری شریف، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، شرعی السنہ بیہقی کے ملاحظہ سے کی جاسکتی ہے۔ پھر آپ کا جواب کس سند پر مبنی ہے؟

قضیہ فلسطین میں جماعت کا رویہ

سوال:’’ بعض اصحاب پوچھتے ہیں کہ فلسطین کی سیاست میں امریکہ اور برطانیہ کی خود غرضی و اسلام دشمن کے نتائج آشکار ہیں۔ جماعت اسلامی نے اس معاملے میں کبھی اپنی پالیسی کا اظہار کیوں نہ…

چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب

سوال:نبی کریمﷺ کی مقدس احادیث کے لیے میرے دل میں احترام کا جذبہ کسی کٹر سے کٹر اہل حدیث سے کم نہیں۔ اسی لیے ہر وقت دعا مانگتا رہتا ہوں کہ خدا مجھے منکرین حدیث کے فتنے سے بچائے۔ لیکن چند احادیث کے متعلق ہمیشہ میرے دل میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ امید ہے کہ آنجناب ازراہ کرم ان احادیث اور ان سے متعلق میرے شبہات کو ملاحظہ فرمائیں گے اور ان کی وضاحت فرماکر میری پریشانی و بے اطمینانی رفع فرمادیں گے۔ شکر گزار ہوں گا۔

مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل

سوال: میری نظر سے ’’ترجمان القرآن‘‘ کا ایک پرانا پرچہ گزرا تھا جس میں انگلستان کے ایک طالب علم نے گوشت وغیرہ کھانے کے متعلق اپنی مشکلات پیش کی تھیں جس کے جواب میں آنجناب نے فرمایا تھا کہ وہ یہودیوں کا ذبیحہ یا مچھلی کا گوشت کھایا کرے۔ مجھے یہاں موخرالذکر معاملہ یعنی مچھلی غیر ذبح شدہ پر آپ سے کچھ عرض کرنا ہے۔ کیوں کہ غالباً آپ بھی جمہور مسلمانان کی طرح اس کا گوشت کھانا حلال خیال فرماتے ہیں۔

تحریک اقامت دین کے بارے میں چند سوالات

سوال: جماعت اسلامی کی شرکت کو اپنے لئے لازمی سمجھ لینے کے باوجود مجھے چند شبہات اپنے دل میں کھٹکتے محسوس ہو رہے ہیں۔ اگر ممکن ہوتو اپنی بصیرت سے ان الجھنوں کو صاف کر دیجئے۔…

ڈاؤن لوڈ کریں

رسائل و مسائل کی تمام جلدیں اپنے کمپیوٹر میں محفوظ کریں