سوال و جواب تلاش کریں
Exact matches only
Search in title
Search in content
Search in comments
Search in excerpt
Search in posts
Search in pages
Search in groups
Search in users
Search in forums
Filter by Custom Post Type
جلد منتخب کریں
جلد اول
جلد چہارم
جلد دوم
جلد سوم
متفرق
ترتیب برائے موضوعات

دیگر موضوعات

متفرق سوالات و جوابات

تزکیۂ نفس کی حقیقت

سوال: یہاں کی مقامی فضا تصوف کے چرچے سے معمور ہے۔ اس سے اکثر طرح طرح کے پیچیدہ مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ اس وقت دو باتیں دریافت طلب ہیں:

۱۔ تزکیہ نفس کی صحیح تعریف کیا ہے؟ اس بارے میں رسول اللہﷺ کی تعلیم کیا تھی؟ متصوفین کا اس سلسلے میں صحیح عمل کیا رہا ہے؟ نیز ایک مسلمان کو اپنی زندگی کے اس شعبہ میں کیا صورت اختیار کرنی چاہئے؟

ب۔ کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی آج کل کے صوفیا کی طرح تزکیہ نفس کیا کرتے تھے اور عالم بالا کے مشاہدات ہوتے رہتے تھے؟

حکومت الہٰیہ اور پاپائیت کا اصولی فرق

سوال: رسالہ پیغامِ حق میں ابوسعید بزمی صاحب نے اپنے ایک مضمون کے سلسلے میں لکھا ہے۔

اسلامی سیاست کا ایک تصور وہ بھی ہے جسے حال ہی میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے بڑے زوروشور سے پیش کیا ہے اور جس کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ حکومت عوام کے سامنے جوابدہ نہ ہو۔ تاریخی حیثیت سے یہ اصول نیا نہیں ہے۔ یورپ میں ایک عرصے تک تھیاکریسی کے نام سے اس کا چرچا رہا اور روم کے پاپائے اعظم کا اقتدار اسی تصور کا نتیجہ تھا۔ لیکن لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ کیونکہ خدا کوئی ناطق ادارہ نہیں اس لیے جس شخص کو خدا کے نام پر اختیار و اقتدار مل جائے وہ بڑی آسانی سے اس کا غلط استعمال کرسکتا ہے۔ مولانا مودودیؒ کے حلقہ خیال کے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا تصور سیاست پاپائے اعظم کے تصور سے مختلف ہے، لیکن چونکہ وہ حکومت کو عوام کے سامنے جوابدہ قرار نہیں دیتے اور اسی بنیاد پر جمہوریت کو غلط سمجھتے ہیں اس لیے نتیجتاً ان کا تصور پاپائے اعظم ہی کا تصور ہو کر رہ جاتا ہے۔

پھر بزمی صاحب اپنی طرف سے ایک حل پیش کرتے ہیں، لیکن وہ بھی وجہ تسلی نہیں ہوتا۔ آپ براہِ کرم ترجمان القرآن کے ذریعے سے اس غلط فہمی کا ازالہ فرمادیں اور صحیح نظریہ کی توضیح کردیں۔

عالمانہ جاہلیت

سوال: ’’ایک عالم دین اور صاحب دل بزرگ خطبات اور سیاسی کشمکش (جلد ۳) پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ملازمتیں غیر اللہ کی اطاعت کی تعریف میں نہیں آتی۔ یہ تو اپنی اور اپنے اہل ملک کی خدمت ہے۔ یہ حد درجہ غلط طریق کار ہے کہ خزائن ارض پر ہندو اور سکھ بطور حاکم مسلط ہوں اور مسلمان شودر کی حیثیت میں صرف مطالبہ گزار بن کر رہ جائیں، اور ملازمت کریں بھی تو اس کی آمدنی کو حرام سمجھ کر کھایا کریں۔ میں حیران ہوں کہ ان کو کیا جواب دوں۔‘‘

اسلام میں قطع ید کی سزا

سوال: اسلام میں چوری کی سزا ہاتھ کا کاٹ دینا ہے۔ آج کل روزانہ سینکڑوں چوریاں ہوتی ہیں تو کیا روزانہ سینکڑوں ہاتھ کاٹے جائیں گے؟ بظاہر حالات یہ سزا سخت اور ناقابل عمل معمول ہوتی ہے۔

طریقِ انتخاب کے مسئلے میں ریفرنڈم

سوال: طریقِ انتخاب کے مسئلے میں جماعت اسلامی نے ریفرنڈم کرانے کا جو مطالبہ کیا تھا اس پر مختلف حلقوں کی طرف سے مختلف اعتراضات کیے گئے ہیں۔ میں ان کا خلاصہ پیش کر کے آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کے پاس ان اعتراضات کا کیا جواب ہے۔

۱۔ جداگانہ انتخاب اگر دین اور شریعت کے اصول اور احکام کا لازمی تقاضا ہے تو اس پر عوام سے استصواب کے کیا معنی؟ کیا اسی طرح کل نماز اور روزے پر بھی استصواب کرایا جائے گا؟ کیا آپ یہ اصول قائم کرنا چاہتے ہیں کہ عوام کی اکثریت جس چیز کو حق کہے وہ حق اور جس چیز کو باطل کہے وہ باطل؟ فرض کیجیے کہ ریفرنڈم میں اکثریت کا فیصلہ مخلوط انتخاب کے حق میں نکلے تو کیا آپ اس کو حق مان لیں گے اور پھر جداگانہ انتخاب اسلامی اصول و احکام کا تقاضا نہ رہے گا۔

دارالکفر میں مسلمانوں کی مشکلات

سوال: برطانیہ کے قیام کے دوران میں احکام شریعت کی پابندی میں مجھے مندرجہ ذیل دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ براہ کرم صحیح رہنمائی فرماکر ممنون فرمائیں۔

(۱) پہلی دقت طہارت اور نماز کے بارے میں ہے۔ مجھے سویرے نو بجے اپنے ہوٹل سے نکلنا پڑتا ہے۔ اب اگر شہر میں گھومتے ہوئے رفع حاجت کی ضرورت پڑے تو ہر جگہ انگریزی طرز کے بیت الخلاء بنے ہوئے ہیں، جہاں کھڑے ہو کر پیشاب کرنا پڑتا ہے۔ اس سے کپڑوں پر چھینٹیں پڑنا لازمی ہے۔ اجابت کے لیے کاغذ میسر ہوتے ہیں، ایک بجے ظہر کا وقت ہوتا ہے۔ اس وقت پانی کسی عام جگہ دستیاب نہیں ہوسکتا اور بندرگاہ تک آنے جانے کے لیے زحمت کے علاوہ کم از کم ایک شلنگ خرچ ہوجاتا ہے۔ نماز کے لیے کوئی پاک جگہ بھی نہیں مل سکتی۔ ہوٹل میں گو پانی اور لوٹا میسر ہیں مگر پتلون کی وجہ سے استنجا نہیں ہوسکتا، البتہ وضو کیا جاسکتا ہے، مگر اس میں بھی یہ دقت ہے کہ پانی زمین پر نہ گرے۔ ہاتھ دھونے سے لے کر سر کے مسح تک تو خیر باسن (انگریزی بیسن) میں کام ہوجاتا ہے۔ لیکن پاؤں دھونے کے لیے باسن پر رکھنے پڑتے ہیں جو یہاں کی معاشرت کے لحاظ سے نہایت معیوب ہے۔

تفسیر قرآن کے اختلافات:

سوال: قرآن پاک کی مختلف تفسیریں کیوں ہیں؟ آنحضرت ﷺ نے جو تفسیر بیان کی ہے، وہ ہوبہو کیوں نہ لکھ لی گئی؟ کیا ضرورت ہے کہ لوگ اپنے اپنے علم کے اعتبار سے مختلف تفسیریں بیان کریں اور باہمی اختلافات کا ہنگامہ برپا رہے۔

زیادہ پڑھے گئے سوال و جواب

مہر غیر مؤجل کا حکم

سوال:اگر بوقت نکاح زر مہر کی صرف تعداد مقرر کردی گئی اور اس امر کی تصریح نہ کی گئی ہو کہ یہ مہر معّجل ہے یا مؤجل تو آیا اس کو معّجل قرار دیا جائے گا…

بندوق کے شکار کی حلت و حرمت

سوال: آپ نے تفہیم القرآن میں تکبیر پڑھ کر چھوڑی ہوئی بندوق کے مرے ہوئے شکار کو حلال لکھ کر ایک نئی بات کا اختراع کیاہے جس پر مندرجہ ذیل سوالات اٹھ رہے ہیں مہربانی فرما…

مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل

سوال: میری نظر سے ’’ترجمان القرآن‘‘ کا ایک پرانا پرچہ گزرا تھا جس میں انگلستان کے ایک طالب علم نے گوشت وغیرہ کھانے کے متعلق اپنی مشکلات پیش کی تھیں جس کے جواب میں آنجناب نے فرمایا تھا کہ وہ یہودیوں کا ذبیحہ یا مچھلی کا گوشت کھایا کرے۔ مجھے یہاں موخرالذکر معاملہ یعنی مچھلی غیر ذبح شدہ پر آپ سے کچھ عرض کرنا ہے۔ کیوں کہ غالباً آپ بھی جمہور مسلمانان کی طرح اس کا گوشت کھانا حلال خیال فرماتے ہیں۔

تحقیق حدیث دجال

سوال: ترجمان القرآن میں کسی صاحب نے سوال کیا تھا کہ ’’کانے دجال کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کہیں مقید ہے، تو آخر وہ کونسی جگہ ہے؟ آج دنیا کا کونہ کونہ انسان نے چھان مارا ہے۔ پھر کیوں کانے دجال کا پتہ نہیں چلتا؟‘‘ اس کا جواب آپ کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ ’’کانا دجال وغیرہ تو افسانے ہیں جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے‘‘۔ لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے، کم از کم تیس روایات میں دجال کا تذکرہ موجود ہے، جس کی تصدیق بخاری شریف، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، شرعی السنہ بیہقی کے ملاحظہ سے کی جاسکتی ہے۔ پھر آپ کا جواب کس سند پر مبنی ہے؟

چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب

سوال:نبی کریمﷺ کی مقدس احادیث کے لیے میرے دل میں احترام کا جذبہ کسی کٹر سے کٹر اہل حدیث سے کم نہیں۔ اسی لیے ہر وقت دعا مانگتا رہتا ہوں کہ خدا مجھے منکرین حدیث کے فتنے سے بچائے۔ لیکن چند احادیث کے متعلق ہمیشہ میرے دل میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ امید ہے کہ آنجناب ازراہ کرم ان احادیث اور ان سے متعلق میرے شبہات کو ملاحظہ فرمائیں گے اور ان کی وضاحت فرماکر میری پریشانی و بے اطمینانی رفع فرمادیں گے۔ شکر گزار ہوں گا۔

قرآن پاک میں چوری کی سزا

سوال: اس خط کے ہمراہ ایک مضمون ’’قرآن میں چور کی سزا‘‘ کے عنوان سے بھیج رہا ہوں۔ اگر ممکن ہو تو آپ اسے اپنے ماہنامہ میں شائع فرمادیں۔ میرا مقصد یہ ہے کہ مختلف لوگ اس پر اظہار خیال کریں اور اکثریت اگر میرے ساتھ متفق ہو تو پھر زنا کے جرم کے بارے میں بھی اسی طرح کی تشریح کی جائے۔

زکوٰۃ کی حقیقت اور اس کے اصولی احکام

سوال نامہ:
(۱) زکوٰۃ کی تعریف کیا ہے؟

(۲) کن کن لوگوں پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟ اس سلسلے میں عورتوں، نابالغوں، قیدیوں، مسافروں، فاتر العقل افراد اور مستامنوں یعنی غیر ملک میں مقیم لوگوں کی حیثیت کیا ہے۔ وضاحت سے بیان کیجیے؟

(۳) زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے کتنی عمر کے شخص کو بالغ سمجھنا چاہیے؟

(۴) زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے عورت کے ذاتی استعمال کے زیور کی کیا حیثیت ہے؟

(۵) کیا کمپنیوں کو زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے یا ہر حصے دار کو اپنے اپنے حصے کے مطابق فرداً فرداً زکوٰۃ ادا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟

(۶) کارخانوں اور دوسرے تجارتی اداروں پر زکوٰۃ کے واجب ہونے کی حدود بیان کیجیے؟

(۷) جن کمپنیوں کے حصص ناقابل انتقال ہیں، ان کے سلسلے میں تشخیص زکوٰۃ کے وقت کس پر زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہوگی؟ حصص خریدنے والے پر یا فروخت کرنے والے پر؟

(۸) کن کن اثاثوں اور چیزوں پر اور موجودہ سماجی حالت کے پیش نظر کن کن حالات میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟ بالخصوص ان چیزوں کے بارے میں یا ان سے پیدا شدہ حالات میں کیا صورت ہوگی؟

ڈاؤن لوڈ کریں

رسائل و مسائل کی تمام جلدیں اپنے کمپیوٹر میں محفوظ کریں