سوال و جواب تلاش کریں
Exact matches only
Search in title
Search in content
Search in comments
Search in excerpt
Search in posts
Search in pages
Search in groups
Search in users
Search in forums
Filter by Custom Post Type
جلد منتخب کریں
جلد اول
جلد چہارم
جلد دوم
جلد سوم
متفرق
ترتیب برائے موضوعات

دیگر موضوعات

متفرق سوالات و جوابات

فتنۂ تصویر

سوال: آج کل تصویروں اور فوٹو گرافی کا استعمال کثرت سے ہے۔ زندگی کے تقریباً ہر شعبہ میں ان کا استعمال ایک تہذیبی معیار بن گیا ہے۔ بازار کی دکانوں میں، مکانوں کے ڈرائنگ روموں میں، رسالوں کے سرورق پر، اخباروں کے کالموں میں، غرضیکہ جس طرف بھی نگاہ اٹھتی ہے اس لعنت سے سابقہ پڑتا ہے اور بعض اوقات توجہ مبذول ہو کے رہتی ہے۔ کیا نسوانی تصویروں کو بھی پوری توجہ کے ساتھ دیکھنا گناہ ہے۔

حضرت موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کے متعلق چند سوالات

سوال: سیاسی کشمکش حصہ سوم میں صفحہ۹۵ پر آپ لکھتے ہیں ’’پہلا جزیہ ہے کہ انسان کو بالعموم اللہ کی حاکمیت و اقتدار اعلیٰ تسلیم کرنے اور اس کے بھیجے ہوئے قانون کو اپنی زندگی کا…

حدیث کے بعض احکام کو خلاف قرآن مجید سمجھنے کی غلطی

سوال: قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ہم نماز کی تیاری کریں تو ہمیں وضو کرنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر نماز کے لئے از سر نو وضو کرنا ضروری ہے، نماز پڑھ لینے کے بعد وضو کی میعاد ختم ہوجاتی ہے اور دوسری نماز کے لئے بہرحال الگ وضو کرنا لازمی ہے۔ پھر یہ سمجھ میں نہیں آسکا کہ لوگ ایک وضو سے کئی کئی نمازیں کیوں پڑھتے ہیں۔ اسی طرح قرآن مجید میں وضو کے جو ارکان بیان ہوئے ہیں، ان میں کلی کرنے اور ناک میں پانی لینے کا ذکر نہیں ہے اور نہ کہیں ایسے افعال و عوارض کی فہرست دی گئی ہے جن سے وضو ٹوٹتا ہے۔ اس صورت میں کلی وغیرہ کرنا اور بعض امور کو نواقض وضو قرار دینا کیا قرآنی تعلیمات کے خلاف نہیں ہے؟ صلوٰۃ قصر کے بارے میں بھی قرآن مجید وضاحت کرتا ہے کہ صرف پُر خطر جہاد میں ہی نماز میں قصر کیا جاسکتا ہے۔ کیا عام پُر امن سفر میں قصر خلاف قرآن مجید نہیں ہے؟

جماعتِ اسلامی اور علمائے کرام

سوال: جماعتِ اسلامی اور علمائے حق کا نزاع اندریں صورت قابل افسوس ہے۔ اس سے اصل کام کی رفتار پر بہت اثر پڑے گا اور یہ معمولی بات نہ سمجھی جائے۔ مذہبی جماعتوں میں سے جماعتِ اسلامی کو اچھی نگاہ سے دیکھنے والی اور جائز حد تک اتفاق ظاہر کرنے والی ایک اہل حدیث کی جماعت ہے (جو قلیل ہے) اور دوسری جماعت علمائے حق کی ہے جو اہل دیو بند سے متعلق ہے (یعنی بریلویوں کے مقابلے میں) اور یہ کثیر تعداد میں ہے۔ اگر اس گروہ عظیم کے اکابر و اصاغر جماعتِ اسلامی سے اس رنگ میں متنفر ہوتے ہیں تو بنظر غائز دیکھ لیا جائے کہ عوام میں کتنی بے لطفی پیدا ہوجائے گی اور اصل مقصد سے ہٹ کر جماعتِ اسلامی کے افراد کس فرقہ بندی کی مصیبت میں مبتلا ہوجائیں گے۔

سپاسنامے اور استقبال

سوال: ماہر القادری صاحب کے استفسار کے جواب میں اصلاحی صاحب کا مکتوب جو فاران کے تازہ شمارے میں شائع ہوا ہے، شاید آپ کی نظر سے گزارا ہو۔ میرا خیال ہے کہ زیرِ بحث مسئلہ پر اگر آپ خود اظہارِ رائے فرمائیں تو یہ زیادہ مناسب ہو گا، اس لیے کہ یہ آپ ہی سے زیادہ براہِ راست متعلق ہے۔ اور آپ کے افعال کی توجیہ کی ذمہ داری بھی دوسروں سے زیادہ خود آپ پر ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جب آپ کی خدمت میں یہ سپاسنامے خود آپ کی رضامندی سے پیش ہو رہے ہیں تو آپ اس تمدنی، اجتماعی اور سیاسی ضرورت کو جائز بھی خیال فرماتے ہوں گے۔ لیکن آپ کن دلائل کی بنا پر اس حرکت کو درست سمجھتے ہیں؟ میں دراصل یہی معلوم کرنا چاہتا ہوں اور غالباً ایک ایسے شخص سے جو ہمیشہ معقولیت پسند ہونے کا دعویدار رہا ہو، یہ بات دریافت کرنا غلط نہیں ہے۔ جواب میں ایک بات کو خاص طور پر ملحوظ رکھیے گا اور وہ یہ کہ اگر آپ سپاسنامہ کے اس پورے عمل کو جائز ثابت فرما بھی دیں تو کیا خود آپ کے اصول کے مطابق، احتیاط، دانش کی روش اور شریعت کی اسپرٹ کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ فتنہ میں مبتلا ہونے سے بچنے کے لیے اس سے پرہیز کیا جائے اور کنویں کی مڈیر پر چہل قدمی کرنے کے بجائے ذرا پرے رہا جائے تاکہ پھسل کر کنویں میں گر جانے کا اندیشہ نہ رہے؟

ایک ہمدرد بزرگ کا مشورہ

سوال: اقامت دین کی تحریک حسب معمول قدیم نئے فتنوں سے دو چار ہو رہی ہے۔ فتویٰ بازی اور الزام تراشی جس طبقہ کا مخصوص شعار تھا، وہ تو اپنا ترکش خالی کرکے ناکام ہوچکا ہے۔ اب اصحاب غرض نے ہمارے سلسلہ دیو بند کو بھی اس مقصد کے لیے استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ ممکن ہے کہ وہاں کی جماعتِ اسلامی نے کچھ تنقید و تبلیغ میں بے اعتدالی سے کام لیا ہو اور اس کا رد عمل ہو۔ وہاں کے استفتاء کے جواب میں بھی اور یہاں پاکستان کے استفتاؤں کے جواب میں بھی مستند و محتاط حضرات کے فتویٰ شائع ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ پاکستان میں اہل علم کا بہت زیادہ طبقہ دیو بند سے وابستہ ہے اور وہاں کے فتوے سے اثر پذیر ہونا بھی لازمی ہے جس کا اثر بد تحریک پر بھی پڑسکتا ہے۔ لہٰذا آپ ضرور مناسب طریقے سے اس کی مدافعت کیجیے۔ ۳۲ صفحے کا ایک فتوی دارالافتاء سہارن پور کا شائع ہوا ہے جس کے آخر میں مولانا مفتی مہدی حسن صاحب شاہجہان پوری اور مولانا اعزاز علی صاحب کا فتویٰ بھی ہے رسالہ دارالعلوم کا جو پہلا نمبر نکلا ہے اس میں حضرت مولانا گنگوہی کے پوتے حکیم محمود صاحب کا ایک طویل مکتوب ہے۔ اگرچہ انہوں نے نہایت محتاط طریقے سے اور متانت کے رنگ میں لکھا ہے اور میرے خیال میں انداز تعبیر نہایت سنجیدہ ہے۔ لیکن بہرحال انہوں نے بھی تحریک کو عوام کے لیے دینی لحاظ سے مضر بتایا ہے۔ اثر انگیز ہونے کے لحاظ سے جوشیلے اور غیر معتدلانہ فتوؤں سے یہ زیادہ برا ہوتا ہے۔ کل مجھے بٹالہ کے ایک بزرگ کو ضلع … سے خط آیا ہے جن کا حضرت گنگوہی سے تعلق تھا اور اس کے بعد دوسرے تمام بزرگان دیو بند سے تعلق رہا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’ابھی مجھے حضرت … کا خط سہارن پور سے آیا ہے اور انہوں نے تحقیق حال کے طور پر پوچھا ہے کہ ایک واقعہ مجھے صحیح طور پر معلوم کرکے لکھو۔ پاکستان سے برابر خط آرہے ہیں کہ مولانا مودودی، حضرت مولانا گنگوہی اور حضرت مولانا نانوتوی کا نام لے لے کر ان کی مخالفت میں تقریریں کرتا رہا ہے اور کہتا پھرتا ہے کہ ان لوگوں کو دین کے ساتھ مناسبت ہی نہ تھی اور خاص طور پر سرگودھا کی تقریروں کا حوالہ دیا ہے کہ وہاں نام لے کر یہ مخالفت کی گئی ‘‘۔ بٹالو بزرگ نے مجھ سے پوچھا ہے کہ صحیح واقعہ کیا ہے۔ میں نے انہیں جواب دے کر تردید کردی ہے کہ یہ محض افترا ہے اور خود سہارن پور بھی حضرت … کو خط لکھ دیا ہے۔ تاہم آپ خود بھی ان الزامات کی تردید کریں۔ جواب در جواب کا سلسلہ بھی غلط ہے اور سکوت محض سے بھی لوگوں کے شبہات قوی ہوجاتے ہیں۔ اس طرح اصل مقصد یعنی تحریک اقامت دین کو نقصان پہنچتا ہے۔ علی الخصوص حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب، حضرت مولانا اعزاز علی صاحب، حضرت مولانا محمد طیب صاحب، حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب، حضرت مولانا حفیظ الرحمٰن صاحب، حضرت مولانا احمد سعید صاحب، حضرت مولانا محمد ذکریا صاحب، حضرت مولانا حافظ عبد اللطیف صاحب سے خط و کتابت کرکے انہیں مشورہ دیں کہ اگر میرے متعلق یا جماعت کے متعلق کوئی استفتاء آپ کے سامنے آئے تو جواب دینے سے پہلے مجھ سے اصل حقیقت معلوم کرلیا کریں۔

فقہی اختلافات کی بنا پر نمازوں کی علیحدگی

سوال: فقہی اختلافات کی بنا پر بعض صورتوں میں حنفی، اہلحدیث اور شافعی حضرات علیحدہ علیحدہ نماز پڑھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ مثلاً ایک گروہ اول وقت نماز پڑھنے کو ترجیح دیتا ہے اور دوسرا تاخیر کو افضل سمجھتا ہے اب ان سب کا مل کر ایک جماعت میں نماز پڑھنا کسی نہ کسی کو افضل نماز سے محروم ہی کرے گا۔ اگر ’’افضل نماز‘‘ کی کوئی اہمیت ہے تو پھر آپ کیوں اس ’’ایک ہی جماعت‘‘ کے اصول پر اتنا زور دیتے ہیں؟

زیادہ پڑھے گئے سوال و جواب

مہر غیر مؤجل کا حکم

سوال:اگر بوقت نکاح زر مہر کی صرف تعداد مقرر کردی گئی اور اس امر کی تصریح نہ کی گئی ہو کہ یہ مہر معّجل ہے یا مؤجل تو آیا اس کو معّجل قرار دیا جائے گا…

بندوق کے شکار کی حلت و حرمت

سوال: آپ نے تفہیم القرآن میں تکبیر پڑھ کر چھوڑی ہوئی بندوق کے مرے ہوئے شکار کو حلال لکھ کر ایک نئی بات کا اختراع کیاہے جس پر مندرجہ ذیل سوالات اٹھ رہے ہیں مہربانی فرما…

مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل

سوال: میری نظر سے ’’ترجمان القرآن‘‘ کا ایک پرانا پرچہ گزرا تھا جس میں انگلستان کے ایک طالب علم نے گوشت وغیرہ کھانے کے متعلق اپنی مشکلات پیش کی تھیں جس کے جواب میں آنجناب نے فرمایا تھا کہ وہ یہودیوں کا ذبیحہ یا مچھلی کا گوشت کھایا کرے۔ مجھے یہاں موخرالذکر معاملہ یعنی مچھلی غیر ذبح شدہ پر آپ سے کچھ عرض کرنا ہے۔ کیوں کہ غالباً آپ بھی جمہور مسلمانان کی طرح اس کا گوشت کھانا حلال خیال فرماتے ہیں۔

تحقیق حدیث دجال

سوال: ترجمان القرآن میں کسی صاحب نے سوال کیا تھا کہ ’’کانے دجال کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کہیں مقید ہے، تو آخر وہ کونسی جگہ ہے؟ آج دنیا کا کونہ کونہ انسان نے چھان مارا ہے۔ پھر کیوں کانے دجال کا پتہ نہیں چلتا؟‘‘ اس کا جواب آپ کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ ’’کانا دجال وغیرہ تو افسانے ہیں جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے‘‘۔ لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے، کم از کم تیس روایات میں دجال کا تذکرہ موجود ہے، جس کی تصدیق بخاری شریف، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، شرعی السنہ بیہقی کے ملاحظہ سے کی جاسکتی ہے۔ پھر آپ کا جواب کس سند پر مبنی ہے؟

چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب

سوال:نبی کریمﷺ کی مقدس احادیث کے لیے میرے دل میں احترام کا جذبہ کسی کٹر سے کٹر اہل حدیث سے کم نہیں۔ اسی لیے ہر وقت دعا مانگتا رہتا ہوں کہ خدا مجھے منکرین حدیث کے فتنے سے بچائے۔ لیکن چند احادیث کے متعلق ہمیشہ میرے دل میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ امید ہے کہ آنجناب ازراہ کرم ان احادیث اور ان سے متعلق میرے شبہات کو ملاحظہ فرمائیں گے اور ان کی وضاحت فرماکر میری پریشانی و بے اطمینانی رفع فرمادیں گے۔ شکر گزار ہوں گا۔

قرآن پاک میں چوری کی سزا

سوال: اس خط کے ہمراہ ایک مضمون ’’قرآن میں چور کی سزا‘‘ کے عنوان سے بھیج رہا ہوں۔ اگر ممکن ہو تو آپ اسے اپنے ماہنامہ میں شائع فرمادیں۔ میرا مقصد یہ ہے کہ مختلف لوگ اس پر اظہار خیال کریں اور اکثریت اگر میرے ساتھ متفق ہو تو پھر زنا کے جرم کے بارے میں بھی اسی طرح کی تشریح کی جائے۔

زکوٰۃ کی حقیقت اور اس کے اصولی احکام

سوال نامہ:
(۱) زکوٰۃ کی تعریف کیا ہے؟

(۲) کن کن لوگوں پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟ اس سلسلے میں عورتوں، نابالغوں، قیدیوں، مسافروں، فاتر العقل افراد اور مستامنوں یعنی غیر ملک میں مقیم لوگوں کی حیثیت کیا ہے۔ وضاحت سے بیان کیجیے؟

(۳) زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے کتنی عمر کے شخص کو بالغ سمجھنا چاہیے؟

(۴) زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے عورت کے ذاتی استعمال کے زیور کی کیا حیثیت ہے؟

(۵) کیا کمپنیوں کو زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے یا ہر حصے دار کو اپنے اپنے حصے کے مطابق فرداً فرداً زکوٰۃ ادا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟

(۶) کارخانوں اور دوسرے تجارتی اداروں پر زکوٰۃ کے واجب ہونے کی حدود بیان کیجیے؟

(۷) جن کمپنیوں کے حصص ناقابل انتقال ہیں، ان کے سلسلے میں تشخیص زکوٰۃ کے وقت کس پر زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہوگی؟ حصص خریدنے والے پر یا فروخت کرنے والے پر؟

(۸) کن کن اثاثوں اور چیزوں پر اور موجودہ سماجی حالت کے پیش نظر کن کن حالات میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟ بالخصوص ان چیزوں کے بارے میں یا ان سے پیدا شدہ حالات میں کیا صورت ہوگی؟

ڈاؤن لوڈ کریں

رسائل و مسائل کی تمام جلدیں اپنے کمپیوٹر میں محفوظ کریں