سوال و جواب تلاش کریں
Exact matches only
Search in title
Search in content
Search in comments
Search in excerpt
Search in posts
Search in pages
Search in groups
Search in users
Search in forums
Filter by Custom Post Type
جلد منتخب کریں
جلد اول
جلد چہارم
جلد دوم
جلد سوم
متفرق
ترتیب برائے موضوعات

دیگر موضوعات

متفرق سوالات و جوابات

اسلام اور سینما ٹو گرافی

سوال: میں ایک طالب علم ہوں۔ میں نے جماعت اسلامی کے لٹریچر کا وسیع مطالعہ کیا ہے۔ خدا کے فضل سے مجھ میں نمایاں ذہنی و عملی انقلاب رونما ہوا ہے۔ مجھے ایک زمانے سے سینماٹو گرافی سے گہری فنی دلچسپی ہے اور اس سلسلے میں کافی معلومات فراہم کی ہیں۔ نظریات کی تبدیلی کے بعد میری دلی خواہش ہے کہ اگر شرعاً ممکن ہو تو اس فن سے دینی و اخلاقی خدمت لی جائے۔ آپ براہ نوازش مطلع فرمائیں کہ اس فن سے استفادے کی گنجائش اسلام میں ہے یا نہیں۔ اگر جواب اثبات میں ہو تو پھر یہ بھی واضح فرمائیں کہ عورت کا کردار پردہ فلم پر دکھانے کی بھی کوئی جائز صورت ممکن ہے یا نہیں؟

ایک ہندو دوست کا خط اور اس کا جواب

’’دیر کے بعد خط لکھ رہا ہوں۔ اس طویل غیر حاضری کی وجہ صرف یہ خیال تھا کہ آپ کی جملہ تصنیفات کو مطالعہ کرنے کے بعد اپنے خیالات کو آپ کی خدمت میں وضاحت سے…

اسلام اور جمہوریت

سوال: جمہوریت کو آج کل ایک بہترین نظام قرار دیا جاتا ہے۔ اسلامی نظام سیاست کے بارے میں بھی یہی خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بہت بڑی حد تک جمہوری اصولوں پرمبنی ہے۔ مگر میری نگاہ میں جمہوریت کے بعض نقائض ایسے ہیں جن کے متعلق میں یہ معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ اسلام انہیں کس طرح دور کر سکتا ہے وہ نقائض درج ذیل ہیں:

غلافِ کعبہ کی نمائش اور جلوس

سوال: حال ہی میں بیت اللہ کے غلاف کی تیاری اور نگرانی کا جو شرف پاکستان اور آپ کو ملا ہے وہ باعث فخر و سعادت ہے۔ مگر اس سلسلے میں بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی وارد ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے پہلے تو آپ کی نیت پر حملے کیے گئے ہیں اور یہ کہا گیا ہے کہ دراصل آپ اپنے اور اپنی جماعت کے داغ مٹانا اور پبلسٹی کرنا چاہتے تھے اور آئندہ انتخابات میں کامیابی کے خواہاں تھے، اس لیے آپ نے اس کام کو اپنے ہاتھ میں لیا تاکہ شہرت بھی حاصل ہو اور الیکشن فنڈ کے لیے لاکھوں روپے بھی فراہم ہوں۔ اس کے بعد بعض اعتراضات اصولی اور دینی رنگ میں پیش کیے گئے ہیں۔ مثلاً کہا گیا ہے کہ:

تشخیص مریض

سوال:عنایت نامہ مایوسی کی حالت میں پہنچا۔ اس نے میرے قلب و دماغ پر جو اثر کیا وہ دائرہ تحریر سے باہر ہے۔ میں نے جو خیالات ظاہر کیے ہیں، ان کو لے کر میں ہر جماعت میں داخل ہوا لیکن ہر جگہ سے بد دل ہو کر لوٹا اور آخر کار فیصلہ کرلیا کہ اب کسی جماعت میں دخل نہ دوں گا بلکہ انفرادی حیثیت سے جو کچھ خدمت دین ممکن ہوگی، انجام دوں گا۔ اسی خیال کے تحت محلے کی مسجد میں بعد نماز فجر تفسیر حقانی اور بعد نماز عشاء رحمتہ للعالمین مولفہ قاضی سلمان منصور پوری یکم اکتوبر ۱۹۴۹ء سے سنانی شروع کی۔ میرے خیالات اس کام سے اور پختہ ہوگئے۔ ستمبر ۵۱ء میں اتفاقیہ ایک شخص کے ذریعے مجھے ’’سیاسی کشمکش‘‘ کا تیسرا حصہ مل گیا۔ میں نے اس کو کئی مرتبہ پڑھا، میرے خیالات کی دنیا نے پلٹا کھایا اور اب میں جماعتِ اسلامی کی طرف متوجہ ہوگیا ۔ لٹریچر کا خوب اچھی طرح مطالعہ کیا اور پھر مسجد میں خطبات سنانے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کو شروع کرنے کے بعد وہ فتنہ پھوٹا جس کا ذکر پہلے کرچکا ہوں۔

حرام کو حلال کرنے کے لیے حیلہ سازی

سوال: زید پر حکومت کی طرف سے ناجائز ٹیکس واجب الادا ہیں وہ انہیں مجبوراً ادا کرتا ہے۔ زید نے اس نقصان کی تلافی کا یہ حیلہ سوچا ہے کہ اس کا جو روپیہ بینک یا ڈاک خانہ میں ہے، اس پر وہ سود وصول کرلے۔ کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟

ملکی فسادات میں ہمارا فرض

سوال: ہم ایک ہندو اسٹیٹ میں رہتے ہیں جہاں برطانوی ہند کے مقابلے میں کتنی ہی زائد پابندیاں عائد ہیں۔ محض نماز روزے کی آزادی ہے، اور یہ آزادی بھی برادران وطن کی آنکھوں میں کانٹے…

زیادہ پڑھے گئے سوال و جواب

مہر غیر مؤجل کا حکم

سوال:اگر بوقت نکاح زر مہر کی صرف تعداد مقرر کردی گئی اور اس امر کی تصریح نہ کی گئی ہو کہ یہ مہر معّجل ہے یا مؤجل تو آیا اس کو معّجل قرار دیا جائے گا…

بندوق کے شکار کی حلت و حرمت

سوال: آپ نے تفہیم القرآن میں تکبیر پڑھ کر چھوڑی ہوئی بندوق کے مرے ہوئے شکار کو حلال لکھ کر ایک نئی بات کا اختراع کیاہے جس پر مندرجہ ذیل سوالات اٹھ رہے ہیں مہربانی فرما…

مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل

سوال: میری نظر سے ’’ترجمان القرآن‘‘ کا ایک پرانا پرچہ گزرا تھا جس میں انگلستان کے ایک طالب علم نے گوشت وغیرہ کھانے کے متعلق اپنی مشکلات پیش کی تھیں جس کے جواب میں آنجناب نے فرمایا تھا کہ وہ یہودیوں کا ذبیحہ یا مچھلی کا گوشت کھایا کرے۔ مجھے یہاں موخرالذکر معاملہ یعنی مچھلی غیر ذبح شدہ پر آپ سے کچھ عرض کرنا ہے۔ کیوں کہ غالباً آپ بھی جمہور مسلمانان کی طرح اس کا گوشت کھانا حلال خیال فرماتے ہیں۔

چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب

سوال:نبی کریمﷺ کی مقدس احادیث کے لیے میرے دل میں احترام کا جذبہ کسی کٹر سے کٹر اہل حدیث سے کم نہیں۔ اسی لیے ہر وقت دعا مانگتا رہتا ہوں کہ خدا مجھے منکرین حدیث کے فتنے سے بچائے۔ لیکن چند احادیث کے متعلق ہمیشہ میرے دل میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ امید ہے کہ آنجناب ازراہ کرم ان احادیث اور ان سے متعلق میرے شبہات کو ملاحظہ فرمائیں گے اور ان کی وضاحت فرماکر میری پریشانی و بے اطمینانی رفع فرمادیں گے۔ شکر گزار ہوں گا۔

تحقیق حدیث دجال

سوال: ترجمان القرآن میں کسی صاحب نے سوال کیا تھا کہ ’’کانے دجال کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کہیں مقید ہے، تو آخر وہ کونسی جگہ ہے؟ آج دنیا کا کونہ کونہ انسان نے چھان مارا ہے۔ پھر کیوں کانے دجال کا پتہ نہیں چلتا؟‘‘ اس کا جواب آپ کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ ’’کانا دجال وغیرہ تو افسانے ہیں جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے‘‘۔ لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے، کم از کم تیس روایات میں دجال کا تذکرہ موجود ہے، جس کی تصدیق بخاری شریف، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، شرعی السنہ بیہقی کے ملاحظہ سے کی جاسکتی ہے۔ پھر آپ کا جواب کس سند پر مبنی ہے؟

زکوٰۃ کی حقیقت اور اس کے اصولی احکام

سوال نامہ:
(۱) زکوٰۃ کی تعریف کیا ہے؟

(۲) کن کن لوگوں پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟ اس سلسلے میں عورتوں، نابالغوں، قیدیوں، مسافروں، فاتر العقل افراد اور مستامنوں یعنی غیر ملک میں مقیم لوگوں کی حیثیت کیا ہے۔ وضاحت سے بیان کیجیے؟

(۳) زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے کتنی عمر کے شخص کو بالغ سمجھنا چاہیے؟

(۴) زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے عورت کے ذاتی استعمال کے زیور کی کیا حیثیت ہے؟

(۵) کیا کمپنیوں کو زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے یا ہر حصے دار کو اپنے اپنے حصے کے مطابق فرداً فرداً زکوٰۃ ادا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟

(۶) کارخانوں اور دوسرے تجارتی اداروں پر زکوٰۃ کے واجب ہونے کی حدود بیان کیجیے؟

(۷) جن کمپنیوں کے حصص ناقابل انتقال ہیں، ان کے سلسلے میں تشخیص زکوٰۃ کے وقت کس پر زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہوگی؟ حصص خریدنے والے پر یا فروخت کرنے والے پر؟

(۸) کن کن اثاثوں اور چیزوں پر اور موجودہ سماجی حالت کے پیش نظر کن کن حالات میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟ بالخصوص ان چیزوں کے بارے میں یا ان سے پیدا شدہ حالات میں کیا صورت ہوگی؟

رمضان میں قیام اللیل

سوال: براہ کرم مندرجہ ذیل سوالات کے جواب عنایت فرمائیں:

(۱) علمائے کرام بالعموم یہ کہتے ہیں کہ تراویح اول وقت میں (عشاء کی نماز کے بعد متصل) پڑھنا افضل ہے اور تراویح کی جماعت سنت موکدہ کفایہ ہے۔ یعنی اگر کسی محلہ میں تراویح یا جماعت نہ ادا کی جائے تو اہل محلہ گناہ گار ہوں گے اور دو آدمیوں نے بھی مل کر مسجد میں تراویح پڑھ لی تو سب کے ذمہ سے ترک جماعت کا گناہ ساقط ہوجائے گا۔ کیا یہ صحیح ہے؟ اگر یہ صحیح ہے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانے میں کیوں ایسا نہیں ہوا؟ اور اس زمانے کے مسلمانوں کے لیے کیا حکم ہوگا؟ کیا وہ سب تراویح با جماعت نہ پڑھنے سے گناہ گار تھے؟

ڈاؤن لوڈ کریں

رسائل و مسائل کی تمام جلدیں اپنے کمپیوٹر میں محفوظ کریں