خاتم النبیین کے بعد دعوائے نبوت

سوال: ’’ترجمان القرآن (جنوری، فروری) کے صفحہ ۲۳۶ پر آپ نے لکھا ہے کہ میرا ’’تجربہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی جھوٹ کو فروغ نہیں دیتا۔ میرا ہمیشہ سے یہ قاعدہ رہا ہے کہ … جن لوگوں کو میں صداقت و دیانت سے بے پروا اور خوف خدا سے خالی پاتا ہوں، ان کی باتوں کا کبھی جواب نہیں دیتا … خدا ہی ان سے بدلہ لے سکتا ہے … اور ان کا پردہ انشاء اللہ دنیا ہی میں فاش ہوگا۔‘‘ میں عرض کردوں کہ میں نے جماعت احمدیہ کے لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے اور ان کے کام سے دلچسپی ہے۔ میرے مندرجہ ذیل استفسارات اسی ضمن میں ہیں:

ختم نبوت کے خلاف قادیانیوں کی ایک اور دلیل

سوال: ’’تفہیم القرآن‘‘ (سورہ آل عمران صفحہ ۲۶۸، ع۔۹)، آیت وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّيْنَ …الخ کی تشریح کرتے ہوئے آپ نے حاشیہ نمبر ۶۹ یوں درج کیا ہے کہ ’’یہاں اتنی بات اور سمجھ لینی چاہئے کہ حضرت محمدؐ سے پہلے ہر نبی سے یہی عہد لیا جاتا رہا ہے اور اسی بنا پر ہر نبی نے اپنی امت کو بعد کے آنے والے نبی کی خبر دی ہے اور اس کا ساتھ دینے کی ہدایت کی ہے۔ لیکن نہ قرآن میں، نہ حدیث میں، کہیں بھی اس امر کا پتہ نہیں چلتا کہ حضرت محمدؐ سے ایسا عہد لیا گیا ہو، یا آپؐ نے اپنی امت کو کسی بعد کے آنے والے نبی کی خبر دے کر اس پر ایمان لانے کی ہدایت فرمائی ہو‘‘۔

کیا یہ تنابز بالالقاب ہے؟

سوال: آپ کی جماعت کا دعویٰ ہے کہ وہ اقامتِ دین کے لیے کھڑی ہوئی ہے مگر مجھے افسوس ہے کہ آپ اور آپ کی جماعت ہمیشہ جماعتِ احمدیہ کو ’’مرزائی جماعت‘‘ یا ’’قادیانی جماعت‘‘ کے نام سے موسوم کرتی ہے۔ حالانکہ یہ امر دیانت کے بالکل خلاف ہے کہ کسی کو ایسا نام دیا جائے جو اس نے اپنے لیے نہیں رکھا۔

ختم نبوت

سوال: میرے ایک دوست ہیں جو مجھ سے بحث کیا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ان کے ایک رشتہ دار جو مرزائی ہیں ان کو اپنی جماعت کی دعوت دیتے ہیں مگر وہ میرے دوست ان کے سوال کا جواب پوری طرح نہیں دے سکتے۔انہوں نے مجھ سے ذکر کیا۔ میں خود تو جواب نہ دے سکا۔ البتہ میں نے ایک صاحب علم سے اس کا جواب پوچھا۔ مگر کوئی ایسا جواب نہ ملا جس سے کہ میری اپنی ہی تسلی ہوجاتی۔ اس لیے اب آپ سے پوچھتا ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ مرزائی حضرات لفظ ’’خاتم‘‘ کے معنی نفی کمال…

ختم نبوت کے خلاف قادیانیوں کے دلائل:

سوال: قادیانی حضرات قرآن مجید کی بعض آیات اور بعض احادیث سے ختم نبوت کے خلاف دلائل فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں مثلاً وہ سورہ اعراف کی آیت يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ … کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ قرآن کے نزول اور محمد ﷺ کی بعثت کے بعد اس آیت کا خطاب امت محمدیہ سے ہی ہو سکتا ہے۔ یہاں بنی آدم سے مراد یہی امت ہے اور اسی امت کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ اگر ’’کبھی تمہارے پاس تم میں سے رسول آئیں‘‘۔ اس سے قادیانیوں کے بقول نہ صرف امتی انبیاء بلکہ امتی رسولوں کا آنا ثابت ہوتا ہے۔ دوسری آیت سورہ مومنون کی ہے جس میں آغاز يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ سے ہوتا ہے۔ اس سے بھی ان کے نزدیک رسول کی آمد ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح قادیانی حدیث ’’لَوْ عَاشَ اِبْراھِیْمُ لَکَانَ نَبِیًّا‘‘ (اگر رسول اللہ کے صاحب زادے ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے) سے بھی امکان نبوت کے حق میں استد لال کرتے ہیں۔ براہ کرم ان دلائل کی وضاحت واضح فرمائیں۔

مسئلہ ختم نبوت:

سوال: اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں کا متفقہ علیہ عقیدہ یہ ہے کہ محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ہے، تاہم مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اور قادیانی جماعت کی بعض باتیں مجھے اچھی معلوم ہوتی ہیں۔