اردو زبان اور موجودہ حکمران

سوال: آپ اس حقیقت سے بہت زیادہ واقف ہیں کہ مشرق کی عظیم عوامی زبان اردو ہی وہ واحد زبان ہے کہ جس کو ہم دولتین پاک و ہند کی بین المملکتی زبان قرار دے سکتے ہیں۔ عوامی رابطہ مشرقی و مغربی پاکستان کے اعتبار سے بھی اردو ہی بین عوامی زبان کہلائی جاسکتی ہے۔ مغربی پاکستان کی ۹ علاقائی زبانوں میں بھی اردو ہی واحد بین العلاقائی زبان ہے۔

اردو کی دولت مندی، اعلیٰ استعداد علمی و صلاحیت دفتری حضرت والا سے مخفی نہیں۔ اس کے باوجود آج پندرہ سال کی طویل مدت گزر گئی لیکن اردو کا نفاذ مغربی پاکستان میں بحیثیت سرکاری، دفتری عدالتی اور تعلیمی زبان نہ ہو سکا۔

سیاسی انقلاب پہلے یا سماجی انقلاب؟

سوال: ہمارے ملک میں یہ احساس عام ہے کہ اسلام کے اصول و احکام پسندیدہ اور مستحسن تو ہیں مگر بحالات موجودہ قابل عمل نہیں ہیں۔ عوام و خواص میں اسلام سے جذباتی وابستگی تو ضرور ہے لیکن اسلام کا صحیح مفہوم اور آمادگی عمل بہت کم ہے۔ اسلام جس ذہنی و عملی انضباط کا مطالبہ کرتا ہے اسے دیکھ کر یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسلامی قوانین کو نافذ کر دیا گیا تو کہیں اس کے خلاف شدید ردعمل نہ رونما ہو جائے۔ سیاسی انقلاب سے پہلے سماجی انقلاب ضروری ہے اور اصلاح کا جذبہ اوپر سے اوپر باہر سے پیدا کرنے کے بجائے اندر سے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ صورتحال پیدا ہونے سے پہلے کیا اسلامی ریاست کا مطالبہ قبل از وقت نہیں ہے؟

اسلامی جمہوریت اور ملازمین حکومت کی حیثیت

سوال: اگست ۱۹۵۵ء کے ترجمان میں اشارات کے زیر عنوان آپ نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے، ان سے مجھے جزوی اختلاف ہے۔ میرے شبہات درج ذیل ہیں۔

۱۔ آپ نے جمہوریت کو قرآن و سنت کا منشا قرار دیا ہے۔ آپ بخوبی واقف ہیں کہ فی زمانہ جمہوریت ایک مخصوص طرزِ حکومت کا نام ہے جس کی بناء عوام کی غیر محدود حاکمیت کے تصور پر قائم ہے جسے ہم کسی طرح بھی کتاب و سنت کے منشاء کے مطابق قرار نہیں دے سکتے۔ آپ جمہوریت کے لفظ کو اس کے معروف معنی سے ہٹ کر استعمال کر رہے ہیں۔ آپ نے خود اسلامی طرزِ حکومت کے لیے تھیوڈیما کریسی کی اصطلاح وضع کی تھی، اب اس اصطلاح کو چھوڑ کر آپ ڈیمو کریسی کی طرف کیوں رجعت کر رہے ہیں۔

دارالاسلام کی ایک نئی تعریف

سوال: میرے دو سوال حاضر خدمت ہیں امید ہے کہ تسلی بخش جواب مرحمت فرمائیں گے۔

۱۔ دارالکفر، دارالحرب اور دارالاسلام کی صحیح تعریف کیا ہے؟ دارالکفر اور دارالسلام میں کس چیز کو ہم اصلی اور بنیادی قرار دے سکتے ہیں؟ مجھے اس مسئلے پر تردد مولانا حسین احمد صاحب مدنیؒ کی حسب ذیل عبارت سے ہوا ہے۔

اسلامی حکومت یا فرقہ وارانہ حکومت

سوال: مولانا حسین احمد مدنی مرحوم کی تصنیف ’’نقش حیات‘‘ کی بعض قابل اعتراض عبارتوں کے بارے میں آپ سے پہلے خط و کتابت ہوئی تھی۔ اس کے بعد میں نے مولانا مرحوم کو بعض دوسری عبارتوں کی طرف توجہ دلائی تھی۔ اور انہوں نے وعدہ فرما لیا تھا کہ وہ آئندہ ایڈیشن میں قابل اعتراض عبارتوں کو یا تو بالکل تبدیل فرما دیں گے یا اس میں ایسی ترمیم فرمائیں گے کہ کسی کو ان کی طرف غیر اسلامی نظریات کے منسوب کرنے کا موقع نہ مل سکے گا۔ مولانا کا جواب اس سلسلے میں درج ذیل ہے۔

اسلامی حکومت یا فرقہ وارانہ حکومت کی مزید وضاحت

سوال: بہت دنوں سے ارادہ تھا کہ عریضہ ارسال خدمت کروں۔ چند ضروری امور کے بارے میں عرض کرنا چاہتا تھا مگر فرصت نہ ملی کہ اطمینان خاطر کے ساتھ لکھ سکوں۔ ایک نئی بات کی وجہ سے اب فوراً خط لکھا۔ پرسوں تازہ پرچہ ترجمان القرآن کاموصول ہوا۔ میرا معمول یہ ہے کہ رسائل وصول کرتے ہی پہلی نشست میں تقریباً سارا رسالہ ختم کر دیتا ہوں۔ اس دفعہ ’’رسائل و مسائل‘‘ میں جو کچھ آپ نے لکھا ہے اس کو پڑھ کر طبیعت متاثر ہوئی اور دل کا شدید تقاضا ہوا کہ اس بارے میں آپ کی خدمت میں ضرور عریضہ لکھوں اور اپنے تاثرات کا اظہار کروں۔

طریقِ انتخاب کے مسئلے میں ریفرنڈم

سوال: طریقِ انتخاب کے مسئلے میں جماعت اسلامی نے ریفرنڈم کرانے کا جو مطالبہ کیا تھا اس پر مختلف حلقوں کی طرف سے مختلف اعتراضات کیے گئے ہیں۔ میں ان کا خلاصہ پیش کر کے آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کے پاس ان اعتراضات کا کیا جواب ہے۔

۱۔ جداگانہ انتخاب اگر دین اور شریعت کے اصول اور احکام کا لازمی تقاضا ہے تو اس پر عوام سے استصواب کے کیا معنی؟ کیا اسی طرح کل نماز اور روزے پر بھی استصواب کرایا جائے گا؟ کیا آپ یہ اصول قائم کرنا چاہتے ہیں کہ عوام کی اکثریت جس چیز کو حق کہے وہ حق اور جس چیز کو باطل کہے وہ باطل؟ فرض کیجیے کہ ریفرنڈم میں اکثریت کا فیصلہ مخلوط انتخاب کے حق میں نکلے تو کیا آپ اس کو حق مان لیں گے اور پھر جداگانہ انتخاب اسلامی اصول و احکام کا تقاضا نہ رہے گا۔

اسلامی ریاست اور خلافت کے متعلق چند سوالات

سوال: یہ ایک سوالنامہ ہے جو جرمنی سے ایک طالب علم نے اسلامی ریاست اور خلافت کے بعض مسائل کی تحقیق کے لیے بھیجا ہے اصل سوالات انگریزی میں ہیں۔ ذیل میں ہم ان کا ترجمہ دے رہے ہیں۔

۱۔ کیا اموی خلفاء صحیح معنوں میں خلفاء کہلائے جانے کے مستحق ہیں۔

۲۔ کیا اسلامی ریاست کے سربراہ کے لیے صرف خلیفہ کی اصطلاح استعمال کی جاسکتی ہے۔

۳۔ خلفائے بنو عباس خصوصاً المامون کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟

الخلافت یا الحکومت

سوال: اگر بیسوی صدی میں بھی اسلام قابل نفاذ ہے تو موجودہ رجحان و نظریات کی جگہ لینے میں جو مشکلات یا موانع درپیش ہوں گے ان کا بہترین حل ابن خلدون کے ہر دو نظریہ حکومت و ریاست یعنی الخلافت یا الحکومت کس سے ممکن ہے؟

اسلامی حکومت میں خواتین کا دائرہ عمل

سوال: کیا اس دور میں اسلامی حکومت خواتین کو مردوں کے برابر، سیاسی، معاشی و معاشرتی حقوق ادا نہ کرے گی جبکہ اسلام کا دعویٰ ہے کہ اس نے تاریک ترین دور میں بھی عورت کو ایک مقام (Status) عطا کیا؟ کیا آج خواتین کو مردوں کے برابر اپنے ورثہ کا حصہ لینے کا حق دیا جاسکتا ہے؟ کیا ان کو اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹی میں مخلوط تعلیم یا مردوں کے شانہ بشانہ کام کر کے ملک و قوم کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کی اجازت نہ ہوگی؟ فرض کیجیے اگر اسلامی حکومت خواتین کو برابر کا حق رائے دہندگی دے اور وہ کثرت آراء سے وزارت و صدارت کے عہدوں کے لیے الیکشن لڑ کر کامیاب ہو جائیں تو موجودہ بیسویں صدی میں بھی کیا ان کو منصب اعلیٰ کا حق اسلامی احکام کی رو سے نہیں مل سکتا جبکہ بہت سی مثالیں ایسی آج موجود ہیں، مثلاً سیلون میں وزارت عظمیٰ ایک عورت کے پاس ہے یا نیدر لینڈ میں ایک خاتون ہی حکمران اعلیٰ ہے۔ برطانیہ پر ملکہ کی شہنشاہیت ہے سفارتی حد تک جیسے عابدہ سلطانہ دختر نواب آف بھوپال رہ چکی ہیں اور اب بیگم رعنا لیاقت علی خان نیدرلینڈ میں سفیر ہیں۔ یا دیگر جس طرح مسز وجے لکشمی پنڈت برطانیہ میں ہائی کمشنر ہیں۔ اور اقوام متحدہ کی صدر رہ چکی ہیں اور بھی مثالیں جیسے نورجہاں جھانسی کی رانی، رضیہ سلطانہ، حضرت محل زوجہ واجد علی شاہ جو کہ (Pride of Women) کہلاتی ہیں۔ جنہوں نے انگریزوں کے خلاف لکھنؤ میں جنگ کی کمانڈ کی ۔ اس طرح خواتین نے خود کو پورا اہل ثابت کر دیا ہے تو کیا اگر آج محترمہ فاطمہ جناح صدارت کا عہدہ سنبھال لیں تو اسلامی اصول پاکستان کے اسلامی نظام میں اس کی اجازت نہ دیں گے؟ کیا آج بھی خواتین کو ڈاکٹر، وکلا، مجسٹریٹ، جج، فوجی افسر یا پائلٹ وغیرہ بننے کی مطلق اجازت نہ ہوگی؟ خواتین کا یہ بھی کارنامہ کہ وہ نرسوں کی حیثیت سے کس طرح مریضوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں قابل ذکر ہے۔ خود اسلام کی پہلی جنگ میں خواتین نے مرہم پٹی کی، پانی پلایا اور حوصلے بلند کیے۔ تو کیا آج بھی اسلامی حکومت میں آدھی قوم کو مکانات کی چار دیواری میں مقید رکھا جائے گا؟