ریاست اور حکومت کا فرق

سوال: پاکستان کے نظامِ حکومت کی شرعی پوزیشن (قرارداد مقاصد کے زیر اثر) جو کچھ قرار پائی ہے اس کے بارے میں اور ریاست و حکومت میں آپ جو فرق کرتے ہیں اس کے بارے میں میرے دل میں کھٹک ہے۔ خود آپ ہی کے الفاظ نے اس مسئلے کو میرے لیے پیچیدہ بنادیا ہے۔ اسٹیٹ کی تعریف آپ نے یوں کی ہے:

قرار داد مقاصد کی تشریح

سوال: مجلس دستور ساز پاکستان کی منظور کردہ قرار داد مقاصد متعلقہ پاکستان میں ایک شق حسب ذیل ہے:

’’جس کی رو سے مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر زندگی کو اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق جو قرآن اور سنت رسول میں متعین ہیں، ترتیب دے سکیں‘‘۔

اس کا م کا اصل تعلق تو دراصل حکومت کے انتظامی امور ہیں، کہ وہ اس کے لیے کیا کیا اقدام کرتی ہے۔ قانونی طور پر حکومت کو مجبور کرنے نیز اس سلسلے میں غفلت یا عدم تعاون یا معاندانہ رویہ اختیار کرنے کی صورت میں دستور میں کیا کیا (Provisions) ہونی چاہئیں کہ یہ مقصد بروئے کار آجائے؟ نیز دستوری طور پر حکومت کو اس سلسلے میں غفلت برتنے، عدم تعاون یا معاندانہ رویہ اختیار کرنے کی صورت میں کس طرح روکا جاسکے؟ اور ایک شہری کو حکومت کے خلاف عدلیہ کے سامنے اس بات کو لانے کے لیے کیا کیا تدابیر ہونی چاہئیں؟

کیا عربی پاکستان کی قومی و سرکاری زبان بن سکتی ہے؟

سوال: ایک صاحب کا انگریزی مضمون ارسال خدمت ہے جو اگرچہ مسلم لیگ کے حلقے میں ہیں لیکن اسلامی حکومت کے لیے آواز اٹھاتے رہتے ہیں اور دل سے چاہتے ہیں کہ اسلام کی منشاء کے مطابق تبدیلی آئے۔ فی الحال یہ ایک خاص مسئلہ پر متوجہ ہیں۔ یعنی اپنی پوری کوشش اس بات پر صرف کررہے ہیں کہ پاکستان کی سرکاری زبان بروئے دستور عربی قرار پائے۔ ان کے دلائل کا جائزہ لے کر اپنی رائے سے مطلع فرمائیں۔

مزید تصریحات

سوال:آپ کی جملہ تصانیف اور سابق عنایت نامہ پڑھنے کے بعد میں یہ فیصلہ کرنے میں حق بجانب ہوں کہ آپ خالص اسلامی طرز کی حکومت قائم کرنے کے خواہاں ہیں اور اس اسلامی حکومت کے عہد میں ذمی اور اہل کتاب کی حیثیت بالکل ایسی ہی ہوگی جیسی ہندوؤں میں اچھوتوں کی۔

آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ ’’ہندوؤں کی عبادت گاہیں محفوظ رہیں گی ان کو مذہبی تعلیم کا انتظام کرنے کا حق دیا جائے گا۔‘‘ مگر آپ نے یہ نہیں تحریر فرمایا کہ آیا ہندوؤں کو تبلیغ کا حق بھی حاصل ہوگا یا نہیں؟ آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’جو بھی اس حکومت کے اصول کو تسلیم کرلے وہ اس کے چلانے میں حصہ دار ہوسکتا ہے؟ خواہ ہندو زادہ ہو یا سکھ زادہ۔‘‘ براہ کرم اس کی توضیح کیجیے کہ ایک ہندو ہندو رہتے ہوئے بھی کیا آپ کی حکومت کے اصولوں پر ایمان لا کر چلانے میں شریک ہوسکتا ہے؟

مسلم لیگ سے اختلاف کی نوعیت

سوال: کن اصول، خطوط اور بنیادوں پر ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی و معاشی اصلاح، ان حالات کے اندر رہتے ہوئے جن میں وہ گھرے ہیں، اسلامی اصول، روایات اور نقطہ نظر کے مطابق ممکن ہے؟ براہ کرم حسب ذیل خطوط پر اپنی تفصیلی رائے تحریر کیجیے۔

مطالبہ پاکستان

سوال: ہمارا عقیدہ ہے کہ مسلمان آدم علیہ السلام کی خلافت ارضی کا وارث ہے۔ مسلمان کی زندگی کا مقصد صرف اللہ پاک کی رضا اور اس کے مقدس قانون پر چلنا اور دوسرں کو چلنے کی ترغیب دینا ہے۔ اس لیے اس کا فطری نصب العین یہ قرار پاتا ہے کہ سارے عالم کو قانون الہٰیہ کے آگے مفتوح کر دے۔

لیکن مسٹر جناح اور ہمارے دوسرے مسلم لیگی بھائی پاکستان چاہتے ہیں۔ ہندوستان کی زمین کا ایک گوشہ! تاکہ ان کے خیال کے مطابق مسلمان چین کی زندگی بسر کر سکیں۔ کیا خالص دینی نقطہ نظر سے یہ قابل اعتراض نہیں؟

حکومت الہٰیہ اور پاپائیت کا اصولی فرق

سوال: رسالہ پیغامِ حق میں ابوسعید بزمی صاحب نے اپنے ایک مضمون کے سلسلے میں لکھا ہے۔

اسلامی سیاست کا ایک تصور وہ بھی ہے جسے حال ہی میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے بڑے زوروشور سے پیش کیا ہے اور جس کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ حکومت عوام کے سامنے جوابدہ نہ ہو۔ تاریخی حیثیت سے یہ اصول نیا نہیں ہے۔ یورپ میں ایک عرصے تک تھیاکریسی کے نام سے اس کا چرچا رہا اور روم کے پاپائے اعظم کا اقتدار اسی تصور کا نتیجہ تھا۔ لیکن لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ کیونکہ خدا کوئی ناطق ادارہ نہیں اس لیے جس شخص کو خدا کے نام پر اختیار و اقتدار مل جائے وہ بڑی آسانی سے اس کا غلط استعمال کرسکتا ہے۔ مولانا مودودیؒ کے حلقہ خیال کے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا تصور سیاست پاپائے اعظم کے تصور سے مختلف ہے، لیکن چونکہ وہ حکومت کو عوام کے سامنے جوابدہ قرار نہیں دیتے اور اسی بنیاد پر جمہوریت کو غلط سمجھتے ہیں اس لیے نتیجتاً ان کا تصور پاپائے اعظم ہی کا تصور ہو کر رہ جاتا ہے۔

پھر بزمی صاحب اپنی طرف سے ایک حل پیش کرتے ہیں، لیکن وہ بھی وجہ تسلی نہیں ہوتا۔ آپ براہِ کرم ترجمان القرآن کے ذریعے سے اس غلط فہمی کا ازالہ فرمادیں اور صحیح نظریہ کی توضیح کردیں۔

نظامِ کفر کی قانون ساز مجالس میں مسلمانوں کی شرکت کا مسئلہ

سوال: آپ کی کتاب ’’اسلام کا نظریہ سیاسی‘‘ پڑھنے کے بعد یہ حقیقت تو دلنشین ہوگئی ہے کہ قانون سازی کا حق صرف خدا ہی کے لیے مختص ہے اور اس حقیقت کے مخالف اصولوں پر بنی ہوئی قانون ساز اسمبلیوں کا ممبر بننا عین شریعت کے خلاف ہے۔ مگر ایک شبہ باقی رہ جاتا ہے کہ اگر تمام مسلمان اسمبلیوں کی شرکت کو حرام تسلیم کرلیں تو پھر سیاسی حیثیت سے مسلمان تباہ ہوجائیں گے۔ ظاہر ہے کہ سیاسی قوت ہی سے قوموں کی فلاح و بہبود کا کام کیا جاسکتا ہے اور ہم نے اگر سیاسی قوت کو بالکلیہ غیروں کے حوالے ہوجانے دیا تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ اغیار مسلم دشمنی کی وجہ سے ایسے قوانین نافذ کریں گے اور ایسا نظام مرتب کریں گے جس کے نیچے مسلمان دب کر رہ جائیں پھر آپ اس سیاسی تباہی سے بچنے کی کیا صورت مسلمانوں کے لیے تجویز کرتے ہیں؟

غیر اسلامی اسمبلیوں کی رکنیت اور نظام کفر کی ملازمت شرعی نقطہ نظر سے

سوال: ’’مسلمانوں کو بحیثیت مسلمان ہونے کے اسمبلی کی ممبری جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ یہاں مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے نمائندے اسمبلی کی رکنیت کے لیے کھڑے ہو رہے ہیں اور ان کی طرف سے ووٹ حاصل کرنے کے لیے مجھ پر دباؤ پڑ رہا ہے۔ حتیٰ کہ علما تک کا مطالبہ یہی ہے۔ اگرچہ مجملاً جانتا ہوں کہ انسانی حاکمیت کے نظریے پر قائم ہونے والی اسمبلی اور اس کی رکنیت دونوں شریعت کی نگاہ میں ناجائز ہیں۔ مگر تاوقتیکہ معقول وجوہ پیش نہ کر سکوں، ووٹ کے مطالبے سے چھٹکارا پانا دشوار ہے۔

یہ امر بھی دریافت طلب ہے کہ سرکاری ملازمت کی حیثیت کیا ہے؟ اس معاملہ میں بھی سرسری طور پر میری رائے عدم جواز کی طرف مائل ہے مگر واضح دلائل سامنے نہیں ہیں۔‘‘

پر امن انقلاب کا راستہ

سوال: ذیل میں دو شبہات پیش کرتا ہوں۔ براہ کرم صحیح نظریات کی توضیح فرماکر انہیں صاف کردیجیے۔

(۱) ترجمان القران کے گزشتہ سے پیوستہ پرچے میں ایک سائل کا سوال شائع ہوا ہے کہ نبیﷺ کو کسی منظم اسٹیٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا، مگر حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے ایک منظم اسٹیٹ تھا اور انہوں نے جب ریاست کو اقتدار کلی منتقل کرنے پر آمادہ پایا تو اسے بڑھ کر قبول کر لیا اور یہ طریق کار اختیار نہیں کیا کہ پہلے مومنین صالحین کی ایک جماعت تیار کریں۔ کیا آج بھی جبکہ اسٹیٹ اس دور سے کئی گنا زیادہ ہمہ گیر ہوچکا ہے۔ اس قسم کا طریق کار اختیار کیا جاسکتا ہے؟‘‘ اس سوال کے جواب میں آپ نے جو کچھ لکھا ہے اس سے مجھے پورا پورا اطمینان نہیں ہوا۔ مجھے یہ دریافت کرنا ہے کہ ہم کو حضرت یوسف علیہ السلام کا اتباع کرنا ہی کیوں چاہیے؟ ہمارے لیے تو نبیﷺ کا اسوہ واجب الاتباع ہے۔ آپﷺ نے اہل مکہ کی بادشاہت کی پیشکش کو رد کرکے اپنے ہی خطوط پر جداگانہ ریاست کی تعمیر و تشکیل کا کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور ہمارے لیے بھی طریق کار اب یہی ہے۔ واضح فرمائیے کہ میری یہ رائے کس حد تک صحیح یا غلط ہے۔

  • 1
  • 2