اللہ کے رازق ہونے کا مطلب

سوال: میں آپ سے قرآن مجید کی درج ذیل آیت کا صحیح مفہوم سمجھنا چاہتا ہوں:
وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فَِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللہِ رِزْقُھَا وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّھَا وَمُسْتَوْدَعَھَا
(زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو اور جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہو کہ کہاں وہ رہتا ہے اور کہاں وہ سونپا جاتا ہے)۔

مجھے جو بات کھٹک رہی ہے وہ یہ ہے کہ جب رزق کا ذمہ دار اللہ ہے تو بنگال کے قحط میں جو تیس ہزار آدمی ۱۹۴۳۔۱۹۴۴ ء میں مرگئے تھے ان کی وفات کا کون ذمہ دار تھا؟

جواب: آیت کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر جتنی مخلوقات ہیں ان سب کے رزق کا سامان خدا نے پیدا کیا ہے۔ یہ سامان اگر خدا نہ پیدا کرتا تو کون چھوٹے چھوٹے کیڑوں اور بھنگوں سے لے کر نوع انسانی تک، اس بے حدو حساب مخلوق کے لیے ہر ایک کی ضرورت کے مطابق رزق فراہم کرسکتا تھا۔ اب رہی یہ بات کہ مخلوقات میں سے کچھ افراد کبھی رزق نہ ملنے کی وجہ سے بھی مرجاتے ہیں، تو اس سے آخر یہ کہاں لازم آتا ہے کہ اللہ کے رازق ہونے کا انکار کردیا جائے؟ اول تو آپ ذرا یہ اندازہ کریں کہ مخلوقات میں سے کتنے فی کروڑ، بلکہ کتنے فی ارب ایسے ہیں جو رزق نہ ملنے کی وجہ سے مرتے ہیں۔ دوسرے یہ بھی سمجھنے کی کوشش کیجیے کہ جس طرح خدا نے اپنی مخلوقات کے لیے زندگی کا بے حدوحساب سامان فراہم کیا ہے اسی طرح اس نے ان کے مرنے کے لیے بھی تو بے شمار اسباب پیدا کیے ہیں۔ روزانہ لاکھوں کروڑوں آدمی پیدا بھی ہوتے ہیں اور مرتے بھی ہیں۔ مرنے والے ایک ہی طرح نہیں مرتے بلکہ بے شمار مختلف صورتوں سے مرتے ہیں۔ اور موت کی ان بے شمار صورتوں میں سے ایک صورت رزق نہ ملنا بھی ہے۔ جب موت کا وقت مقرر آپہنچتا ہے اس وقت رزق کی موجودگی بھی کسی متنفس کو موت سے نہیں بچا سکتی۔ صرف رزق ہی نہیں بلکہ زندگی اور موت کا سامان بھی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے عَلَی اللہِ رِزْقُھَا کے ساتھ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّھَا وَمُسْتَوْدَعَھَا بھی فرمایا گیا۔

(ترجمان القرآن، جنوری ۱۹۶۶ء)