سود کے بغیر معاشی تعمیر

سوال: موجودہ زمانہ میں جب کہ تجارتی کاروبار بلکہ پوری معاشی زندگی سود کے بَل پر چل رہی ہے اور اس کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس میں سود رچ بس نہ گیا ہو، کیا سود کا استیصال عملاً ممکن ہے؟ کیا سود کو ختم کر کے غیر سودی بنیادوں پر معاشی تعمیر ہوسکتی ہے؟

سود اور غیر ملکی تجارت

سوال: غیر ملکی تاجر جب ہم سے سود نہ لینے پر مجبور ہو جائیں گے تو کیا اپنے مال کی قیمتیں نہیں بڑھا دیں گے؟ کیا اس طرح سے سودی لین دین کا بند کرنا عملاً بے سود نہ ہو جائے گا؟

سوال: موجودہ بیرونی تجارت میں ایک عملی دقت یہ بھی ہے کہ اس کے لیے بنک میں (Letter of Credit) کھولنا ضروری ہوتا ہے اور بغیر سود کے اس کا کھلنا ممکن نہیں ہے۔

مکانوں کے کرایوں میں بلیک مارکیٹنگ

سوال: جس مکان میں، میں رہتا ہوں وہ مجھ سے پہلے ایک کرایہ دار نے پینتالیس روپے ماہانہ کرائے پر مالک مکان سے اس شرط پر لیا تھا کہ دو ماہ کے نوٹس پر خالی کردیں گے۔ اس کرایہ دار سے یہ مکان انہی شرائط پر میرے بھائی نے لیا اور میں بھی ان کے ساتھ رہنے لگا۔ دو ماہ کے بعد میرے کہنے پر مالک مکان میرے نام سے رسید کاٹنے لگے۔ آٹھ ماہ تک برابر ہم پینتالیس روپے ماہانہ ادا کرتے رہے اور اس دوران میں کرایہ کی زیادتی ہمارے لیے سخت موجب تکلیف رہی اور کئی مرتبہ ارادہ کیا کہ رینٹ کنٹرولر کے یہاں درخواست دے کر کرایہ کم کرایا جائے مگر اس صورت پر دلی اطمینان نہیں ہوسکا۔ ستمبر میں مالک مکان کو سفیدی وغیرہ کرانے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو کرایہ دار کے فرائض میں سے ہے۔ آس پاس کے لوگوں نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے اپنا سکوت توڑتے ہوئے یہ کہا کہ دو ماہ بعد جواب دوں گا (شاید مکان خالی کرانے کی دھمکی اس جواب میں مضمر تھی) اس پر کسی قدر تیز گفتگو ہوئی۔ جس کے نتیجے میں، میں نے رینٹ کنٹرولر کے یہاں کرایہ تشخیص کرنے کی درخواست دے دی۔ وہاں سے سولہ روپے گیارہ آنے ماہوارہ کے حساب سے کرایہ مقرر کردیا گیا۔ مگر میرا ضمیر اس پر اب بھی مطمئن نہیں ہے۔

قومی ملکیت

سوال: چوں کہ جماعت اسلامی اور آپ ذاتی طور پر قومی ملکیت کے بارے میں ایک خاص طرز فکر رکھتے ہیں، اس لیے بعض شکوک پیش کر رہا ہوں۔ توقع ہے کہ آپ ان کا ازالہ فرمائیں گے۔

موجودہ دور میں ذہن اشتراکیت سے ضرور متاثر ہیں اور محرومین (Have Not) اور منعمین (Haves) کے درمیانی طبقاتی کش مکش کا موجود ہونا قومی ملکیت کے تصور کو ابھار رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ آپ اور جماعت اسلامی اراضیات اور صنعت وغیرہ کو قومیانے (Nationalization)کے متعلق اسی حتمی نتیجے پر کس طرح پہنچے ہیں کہ اسلام اس کے خلاف ہے؟ آپ بحیثیت داعی یا محقق کے اپنی رائے کا اظہار تو کر سکتے ہیں مگر آخری اور قطعی فیصلہ کا حق نہیں رکھتے۔ یہ کام تو اسلامی حکومت کی مجلس شوریٰ کا ہوگا کہ وہ کتاب و سنت پر بحث کرکے کسی آخری نتیجے پر پہنچے۔

ایک زمینداری میں رضا کارانہ طور پر اصطلاحات کا آغاز

سوال: میں ایک بہت بڑی زمینداری کا مالک ہوں۔ میں نے تہیہ کر لیا ہے کہ اپنے مزارعین سے شریعت محمدی ﷺ کے مطابق معاملہ کروں گا۔ اس مقصد کے لیے میں اپنے موجودہ طرز عمل کی تفصیلات تحریر کر رہا ہوں۔ ان کے بارے میں واضح فرمائیں کہ کیا کیا چیزیں غلط ہیں اور کیا کیا صحیح ہیں۔

سود اور زمین کے کرایہ میں فرق

سوال: روپے کے سود اور زمین کے کرائے میں کیا فرق ہے؟ خاص کر اس صورت میں جبکہ دونوں سرمائے کے عناصر ترکیبی (Units of Capital) ہیں۔ مثال کے طور پر ایک صد روپیہ پانچ روپے سالانہ کی شرح سود پر لگایا جائے تو ایک بیگھہ زمین پانچ روپے سالانہ لگان پر، آخر ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ دونوں حالتوں میں یہ معاملہ مشتبہ ہے کہ فریق ثانی کو نفع ہوگا یا نقصان۔ سرمایہ کار (Lender) کو اس سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔ صاحبِ زر یا صاحبِ زمین نفع نقصان سے بالکل بے نیاز رہتا ہے۔

چند کاروباری مسائل

سوال: ایک درآمد کنندہ (Importer) غیرممالک سے مال منگوانے کے لیے دس فیصدی پر بینک میں لیٹر آف کریڈٹ کھولتا ہے اور بعد میں اپنے اس بُک کرائے ہوئے مال کو انہی شرائط کے مطابق جن شرائط پر اس نے خود مال بُک کیا تھا فروخت کردیتا ہے یعنی دس فیصدی بیعانہ کے ساتھ۔

مذکورہ بالا شرائط میں سے ایک اور واضح شرط یہ ہے کہ اگر مالِ مذکورہ تحریر کردہ مدت کے اندر شپ (Ship) نہ ہوسکا، یا کسی ہنگامی حالت کی وجہ سے سرے سے سودا ہی منسوخ ہوگیا تو خریدار کو بیعانہ واپس لے کر معاملہ ختم کرنا ہوگا۔ (عملاً اسی طرح ہوتا ہے) گویا مال شپ نہ ہونے کی صورت میں خریدار اس مال کے نفع نقصان کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ اگر مال بک ہوگیا تو مال کا بھگتان ہوتا ہے ورنہ دوسری صورت میں بیعانہ واپس اور سودا منسوخ۔ چاہے یہ سودا کئی جگہوں پر فروخت ہوچکا ہو۔

اس طریقہ کار میں وہ کون سے نقائص اور خرابیاں ہیں جن کی بنا پر اسے شرعاً نہ درست کہا جاسکتا ہے۔ اس قسم کا لاکھوں روپے کا کاروبار تقریباً ہر مہینے ہم کرتے ہیں اور اس الجھن میں پڑگئے ہیں کہ یہ طریقہ درست بھی ہے یا نہیں۔ ایک ’’صاحب علم‘‘ کی رائے اس کے حق میں بھی ہے؟