تصویر سے اظہارِ برأت

سوال: ماہِ جولائی ۱۹۶۲ء کے ترجمان (تفہیم القرآن) میں تصویر کے مسئلے کو جس خوبی سے آپ نے کتاب و سنت کی روشنی میں حل کیا ہے، ایمان کی بات ہے کہ ذہن مسلمان ہو تو حق بات دل میں اتر کر رہتی ہے۔ اگر واقعی تصویر حرام ہے تو پھر آپ کی تصویر اخبار میں دیکھی جائے تو بڑا رنج ہوتا ہے۔ عموماً علمائے کرام تصویر کو ناجائز بتاتے ہیں مگر ان کا عمل اس کے برعکس ہوتا ہے۔

اسلام اور سینما ٹو گرافی

سوال: میں ایک طالب علم ہوں۔ میں نے جماعت اسلامی کے لٹریچر کا وسیع مطالعہ کیا ہے۔ خدا کے فضل سے مجھ میں نمایاں ذہنی و عملی انقلاب رونما ہوا ہے۔ مجھے ایک زمانے سے سینماٹو گرافی سے گہری فنی دلچسپی ہے اور اس سلسلے میں کافی معلومات فراہم کی ہیں۔ نظریات کی تبدیلی کے بعد میری دلی خواہش ہے کہ اگر شرعاً ممکن ہو تو اس فن سے دینی و اخلاقی خدمت لی جائے۔ آپ براہ نوازش مطلع فرمائیں کہ اس فن سے استفادے کی گنجائش اسلام میں ہے یا نہیں۔ اگر جواب اثبات میں ہو تو پھر یہ بھی واضح فرمائیں کہ عورت کا کردار پردہ فلم پر دکھانے کی بھی کوئی جائز صورت ممکن ہے یا نہیں؟

فوٹو کا مسئلہ

سوال:’’میرے ایک فوٹو گرافر دوست کا خیال ہے کہ اسلام نے تصویر کے متعلق جو امتناعی حکم دیا ہے وہ فوٹو پر عائد نہیں ہوتا، بالخصوص جب کہ فحش منظر کا فوٹو نہ لیا جائے۔ کیا اس کو قائم رکھتے ہوئے فوٹوگرافی کو پیشہ بنایا جاسکتا ہے؟ قومی لیڈروں، جلسوں اور جلوسوں کی تصویریں لینے میں کیا حرج ہے؟‘‘

اسلام اور آلات موسیقی

سوال: ۱۔ کیا آلات موسیقی بنانا اور ان کی تجارت کرنا جائز ہے؟

۲۔ کیا شادی بیاہ کے موقع پر باجے وغیرہ بجانا ناجائز ہیں؟ نیز تفریحاً ان کا استعمال کیسا ہے؟

۳۔اگر جواب نفی میں ہو تو ایسے لوگوں کے لیے کیا حکم ہے جو خود ان کا استعمال نہیں کرتے لیکن ایسے تعلق داروں کے ہاں بخوف کشیدگی چلے جاتے ہیں۔ جو آلات موسیقی کا استعمال کرتے ہیں؟

۴۔ کیا ہمارے لیے ایسے نکاح میں شامل ہونے کی اجازت ہے جہاں آلات موسیقی کا استعمال ہو رہا ہو؟

۵۔ آلات لہو کے حامیوں کا خیال ہے کہ چونکہ آنحضورﷺ کے زمانہ میں دف ہی ایک موسیقی کا آلہ عرب میں رائج تھا، اور آپ نے اس کے استعمال کی اجازت دی ہے، لہٰذا ہمارے زمانے میں دف کی اگر متعدد ترقی یافتہ شکلیں مستعمل ہو گئی ہیں تو ان کا استعمال کیوں نہ روا ہو؟

6- کیا دف آلات لہو میں شامل ہے؟

فتنۂ تصویر

سوال: آج کل تصویروں اور فوٹو گرافی کا استعمال کثرت سے ہے۔ زندگی کے تقریباً ہر شعبہ میں ان کا استعمال ایک تہذیبی معیار بن گیا ہے۔ بازار کی دکانوں میں، مکانوں کے ڈرائنگ روموں میں، رسالوں کے سرورق پر، اخباروں کے کالموں میں، غرضیکہ جس طرف بھی نگاہ اٹھتی ہے اس لعنت سے سابقہ پڑتا ہے اور بعض اوقات توجہ مبذول ہو کے رہتی ہے۔ کیا نسوانی تصویروں کو بھی پوری توجہ کے ساتھ دیکھنا گناہ ہے۔