عذر مجبوری کے ساتھ غیر اللہ کی اطاعت

سوال:’’ ایک شخص غیر اللہ مثلاً بادشاہ یا حکومت باطلہ کی اطاعت کرتا ہے اور اعتقاداً بھی اسی کو حق سمجھتا ہے دو سرا شخص اعتقاداً تو اس کی بندگی نہیں کرتا لیکن عملاً اس کے احکام کی اطاعت کرتاہے اور اس کے لیے مجبوری کا عذر پیش کرتا ہے۔ کیا ان دونوں کے عمل میں کوئی تفریق کی جاسکتی ہے؟ آپ کی تفسیر الہٰ و رب کے لحاظ سے تو دونوں ایک ہی درجے میں ہوئے، حالانکہ دونوں میں بعد المشرقین ہے‘‘۔

جبری امتناع کی صورت میں مباحات کا وجوب

سوال: ہمارے مقامی خطیب صاحب نے ایک وعظ میں یہ فرمایا ہے کہ اگر کسی ملک میں جبراً گاؤ کشی بند کردی جائے تو اس صورت میں ملک کے مسلمانوں پر لازم ہوجاتا ہے کہ وہ اس حکم امتناعی کی خلاف روزی کریں۔ یہ فتویٰ مجھے کچھ عجیب سا معلوم ہوتا ہے۔ آخر شریعت نے جن چیزوں کو حلال ٹھہرایا ہے وہ بس حلال ہی تو ہیں۔ واجب کیسے ہوگئیں۔ مثلاً اونٹ کا گوشت کھانا حلال ہے، لیکن اگر کوئی نہ کھائے تو گناہگار نہیں ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حلت کے معنی وجوب کے نہیں ہیں۔ پھر یہ مولوی فرضیت کا فتویٰ کہاں سے دیتے ہیں؟ آپ فرمائیے کہ مذکورہ بالا فتویٰ کی حیثیت کیا ہے؟

وہابی اور وہابیت

سوال: فرقہ وہابیہ کا بانی کون تھا؟ اس کے مخصوص عقائد کیا تھے؟ ہندوستان میں اس کی تعلیمات کس طرح شائع ہوئیں؟ کیا علمائے اسلام نے اس کی تردید نہیں کی؟ اگر کی ہے تو کس طریقہ پر؟ آیا اس فرقہ نے اشاعت اسلام میں حصہ لیا ہے یا مخالفت اسلام میں؟

سوال:’’کیا کسی حدیث میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ نجد سے ایک فتنہ اٹھے گا؟ کیا یہ حدیث مذکورہ بالا فرقہ پر منطق ہوتی ہے؟‘‘

کیا ایک فقہی مذہب چھوڑ کر دوسرا مذہب اختیار کرنا گناہ ہے؟

سوال: ہمارے اس زمانے میں مذاہب اربعہ میں سے کسی ایک کی پابندی پہلے سے زیاد ہ لازمی ہوگئی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کوئی صاحبِ علم و فضل چار معروف مذاہب فقہ کو چھوڑ کر حدیث پر عمل کرنے یا اجتہاد کرنے کا حقدار ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کس دلیل سے؟ اور اگر جائز ہے تو پھر طحاوی میں ایک بڑے صاحب کمال فقیہ کے اس قول کا کیا مطلب ہے؟

ایصال ثواب

سوال: مندرجہ ذیل امور میں آپ کی رہنمائی درکار ہے۔ مجھے امید ہے کہ حسب معمول جواب عنایت فرمائیں گے۔

(۱) رسائل و مسائل حصہ دوم صفحہ ۲۹۶ پر ’’نذر و نیاز اور ایصال ثواب‘‘ کے عنوان کے تحت جو جواب آپ نے رقم فرمایا ہے، اس سے یہ متبادر ہوتا ہے کہ آپ اس امر کے قائل ہیں کہ مالی عبادت سے ایصال ثواب ہوسکتا ہے مگر بدنی عبادت سے نہیں اور پھر آپ مالی انفاق کے بھی متوفی عزیز کے لیے نافع ہونے کو اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف قرار دے رہے ہیں۔ کیا آپ کے استدلال کی وجہ یہ ہے کہ اس امر کی بابت کوئی صراحت قرآن و حدیث میں نہیں ہے کہ بدنی عبادت میں ایصال ثواب ممکن ہے؟ یا کوئی اور سبب ہے؟