استمنا بالید کا شرعی حکم

سوال: ایک شخص کا شباب عروج پر ہے۔ نفسانی جذبات کا زور ہے۔ اب ان جذبات کو قابو میں رکھنے کی چند ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔

یہ کہ وہ نکاح کرے مگر جس لڑکی سے اس کی نسبت ہے وہ اتنی چھوٹی ہے کہ کم از کم تین چار سال انتظار کرنا ہوگا۔

یہ کہ وہ اپنے خاندان سے باہر کہیں اور شادی کرلے۔ مگر ایسا کرنے سے تمام خاندان ناراض ہوتا ہے، بلکہ بعید نہیں کہ اس کا اپنے خاندان سے رشتہ ہی کٹ جائے۔

یہ کہ وہ اس نسبت سے کوئی عارضی نکاح کرلے کہ اپنی خاندانی منسوبہ سے شادی ہوجانے کے بعد پہلی بیوی کو طلاق دے دے گا۔ مگر اس میں اور متعہ میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔

یہ کہ اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنے کے لیے مسلسل روزے رکھے۔ مگر وہ ایک محنت پیشہ آدمی ہے جسے تمام دن مشغول رہنا پڑتا ہے۔ اتنی محنت روزوں کے ساتھ سخت مشکل ہے۔

آخری چارہ کار یہ ہے کہ وہ زنا سے بچنے کے لیے اپنے ہاتھ سے کام لے۔ کیا ایسے حالات میں وہ اس طریقے کو اختیار کرسکتا ہے۔

پوسٹ مارٹم، شق صدر اور لفظ ’’دل‘‘ کا قرآنی مفہوم

سوال: (۱)اسلامی حکومت میں نعشوں کی چیر پھاڑ (Post mortom) کی کیا صورت اختیار کی جائے گی؟ اسلام تو لاشوں کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دیتا۔ پوسٹ مارٹم دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک (Medico-Legal) زیادہ تر تفتیش کے لیے، دوسرے علم الامراض کی (Pathological) ضروریات کے لیے۔ ممکن ہے اوٓل الذکر کی کچھ زیادہ اہمیت اسلامی حکومت میں نہ ہو، لیکن موخرالذکر کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، کیوں کہ اس طریقے سے امراض کی تشخیص اور طبی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔

پوسٹ مارٹم اور دوسرے طبی مسائل

سوال: سابق خط کے جواب سے میری تشفی نہیں ہوئی۔ آپ نے لکھا ہے کہ ’’پوسٹ مارٹم کی ضرورت بھی مسلم ہے اور احکام شرعیہ میں شدید ضرورت کے بغیر اس کی گنجائش بھی نظر نہیں آتی‘‘۔مگر مشکل یہ ہے کہ طبی نقطہ نگاہ سے کم از کم اس مریض کی لاش کاپوسٹ مارٹم تو ضرور ہونا چاہئے جس کے مرض کی تشخیص نہ ہوسکی ہو یا اس کے باوجود علاج بیکار ثابت ہوا ہو۔ اسی طرح ’’طبی قانونی‘‘ (Medico-Legal) نقطہ نظر سے بھی نوعیت جرم کی تشخیص کے لیے پوسٹ مارٹم لازمی ہے۔ علاوہ ازیں اناٹومی، فزیالوجی اور آپریٹو سرجری کی تعلیم بھی جسد انسانی کے بغیر نا ممکن ہے۔ آپ واضح فرمائیں کہ ان صورتوں میں شرعاً شدید ضرورت کا اطلاق ہوسکتا ہے یا نہیں؟

الکوہل کے مختلف مدارج و اشکال کا حکم

سوال: آ پ نے ترجمان القرآن میں ایک جگہ الکوہل کے خواص رکھنے والی اشیاء کی حلت و حرمت پر بحث کی ہے۔ اس سلسلے میں بعض امور وضاحت طلب ہیں۔ طبعی اور قدرتی اشیاء میں الکوہل اس وقت پائی جاتی ہے جبکہ وہ تعفین و تخمیر کے منازل خاص طریق پر طے کرچکی ہوں۔ بالفاظ دیگر جس شے سے الکوہل حاصل کرنا مقصود ہو، اسے اس قابل بنایا جاتا ہے کہ اس میں الکوہل پیدا ہوجائے۔ جب تک اس میں یہ صلاحیت پیدا نہ ہو، اس وقت تک اس میں الکوہل کا وجود ہی نہیں ہوتا۔ یہ بات دوسری ہے کہ بعض اشیاء میں الکوہل کی صلاحیت زیادہ ہے، بعض میں کم اور بعض میں بالکل نہیں۔ جن اشیاء سے شراب تیار کی جاتی ہے، ان میں یہ صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے۔ اگر ایسی صلاحیت رکھنی والی قدرتی اشیاء میں تخمیر وتعفین کی وجہ سے الکوہل یا سکر پیدا ہوجائے تو وہ سب حرام ہوجائیں گی؟

عورت اور عورت کا جنسی اختلاط

سوال: ان دنوں زنانہ کالجوں کے مسموم فضا میں لڑکیوں کے اندر عجیب و غریب وبائیں پھیل رہی ہیں۔ بالعموم دو لڑکیوں کی دوستی خلوص اور محبت کی حدوں سے گزر کر جنسی محبت کی صورت اختیار کرجاتی ہے۔ شرعاً یہ کس درجے کا گناہ ہے؟ کبیرہ یا صغیرہ؟

آلات کے ذریعہ سے توالد و تناسل

سوال: کیمیاوی آلات کے ذریعہ سے اگر مرد کا نطفہ کسی عورت کے رحم میں پہنچادیا جائے اور اس سے اولاد پیدا ہو، تو یہ عمل مضرت سے خالی ہونے کی وجہ سے مباح ہے یا نہیں؟ اور اس عمل کی معمولہ زانیہ شمار کی جائے گی، اور اس پر حد جاری ہوگی یا نہیں؟ اس امر کا خیال رکھیے کہ آج کل کی فیشن دار عورت مرد سے بے نیاز ہونا چاہتی ہے۔ وہ اگر سائنٹفک طریقوں سے اپنے حصہ کی نسل بڑھانے کا فریضہ ادا کرے تو پھر اس کے خلاف کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے۔ امریکہ میں اس طرح پیدا ہونے والی اولاد کو ازروئے قانون جائز اولاد تسلیم کیا جاتا ہے۔

کرب کا علاج بذریعہ موت

سوال: اگر کسی مریض کے جاں بر ہونے کی قطعاً امید نہ رہی ہو اور شدت مرض کی وجہ سے وہ انتہائی کرب میں مبتلا ہو، یہاں تک کہ نہ غذا اندر جاتی ہو اور نہ دوا، تو کیا ایسے حالات میں کوئی طبیب حاذق اس کو تکلیف سے نجات دینے کے لیے کوئی زہر دے کر اس کی زندگی کی درد ناک گھڑیاں کم کرسکتا ہے؟اس قسم کی مو ت وارد کرنے سے کیا اس پر شرعاً قتل کا الزام آئے گا؟ حالانکہ اس کی نیت بخیر ہے؟

الکوحل آمیز ادویہ کا استعمال

سوال: اس زمانے میں انگریزی دوا میں جو عام طور پر رائج ہیں ان میں ہر رقیق دوا میں الکوحل(جوہر شراب) شامل ہوتا ہے۔ میں ان سے اجتناب کرتا ہوں۔ لیکن عرض یہ ہے کہ تحریم خمر کے متعلق جو حکم قرآن میں ہے اس میں اگر خمر کا مطلب ’’نشہ آور چیز‘‘ لیا جائے تو دوا میں الکوحل اتنا کم ہوتا ہے کہ نشہ نہیں کرتا اور نہ کوئی اس مقصد سے پیتا ہے نہ اس ترکیب سے اس کو اپنے لیے حلال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔یوں باریک بینی کی جائے تو ڈبل روٹی میں بھی آٹے کا خمیر اٹھنے پر کچھ الکوحل بن جاتا ہے، اور شربت جو بوتلوں میں آتے ہیں ان میں بھی کچھ الکوحل ضرور بن جاتا ہے۔ بلکہ الکوحل تو باسی انگوروں میں بھی بنتا ہے۔ اگر ان صورتوں میں یہی وجہ حرمت نمودار نہیں ہوتی تو آخر صرف دوا ہی کے اندر الکوحل کی شمولیت کیوں اتنی زیادہ قابل توجہ ہو؟