خلافت کے لیے قرشیت کی شرط

سوال: اسلام تمام دنیا کو پیغام دیتا ہے کہ سب انسان بحیثیت انسان ہونے کے برابر ہیں، گورے کو کالے پر اور عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں، اسلام کے حرم میں داخل ہوتے ہی سب اونچ نیچ برابر ہوجاتی ہے، اگر کوئی فرق رہتا ہے تو وہ بس اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ کے اصول پر رہتا ہے۔ پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہے جس کا مفہوم یہ یا اس کے قریب ہے خلافت قریش میں رہنی چاہئے۔ یہ صحیح ہے تو پھر ہٹلر ہی نے کیا براکیا اگر اپنی قوم کو تمام دنیا کی قوموں پر…

حضرت علیؓ کی امیدواری خلافت؟

سوال: جماعت اسلامی کے ارکان بالعموم موجودہ زمانہ کے جمہوری طریقوں پر جو تنقیدیں کرتے ہیں ان میں منجملہ اور باتوں کے ایک بات یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ جو شخص خود کسی منصب یا عہدے کا امیدوار ہو یا اس کا دعویدار بنے، اسلام کی رو سے وہ اس کا مستحق نہیں ہے کہ اسے منتخب کیا جائے۔ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ جو خلافت کے امیدوار یا دعویدار تھے اس کے متعلق کیا کہا جائے گا؟ جواب: حضرت علیؓ کی امیدواری و دعویداری کا قصہ دراصل ایک بڑے قصے کا جزو ہے جس…

صحابہ کرام ؓ بعض اختلافات کے باوجود رُحَمَآءُ بَیْنَھُم تھے

سوال: مجھے چند روز قبل فضائل صحابہ کے موضوع پر اظہار خیال کا موقع ملا۔ میں نے حسب توفیق مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاء عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ (الفتح 29:48)کی تشریح کی۔ بعد میں ایک صاحب نے سوال کیا کہ قرآن شریف تو صحابہ ؓ کی یہ صفت بیان کر رہا ہے لیکن واقعات کی تصویر اس کے برعکس ہے۔ جنگ جمل و صفین میں دونوں طرف اکابر صحابہ ؓ موجود تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ بھی ایک فریق کے ہمراہ تھیں۔ ان واقعات کی روشنی میں رُحَمَاء بَيْنَهُمْ کی صحیح توجیہ کیا ہو سکتی ہے؟ میں نے حتی الوسع اس معاملے پر غور کیا۔ بعض کتب دینیہ اور ذی علم احباب سے بھی رجوع کیا، مگر کلی اطمینان نہ ہوسکا۔ آپ براہ کرم ان واقعات کو نگاہ میں رکھتے ہوئے ارشاد قرآنی کی صحیح تاویل و توجیہ بیان کریں، جس سے یہ اشکال رفع ہوجائے۔