کیا برقع ’’پردے‘‘ کی غایت پوری کرتا ہے؟

سوال: احقر ایک مدت سے ذہنی اور قلبی طور پر آپ کی تحریک اقامت دین سے وابستہ ہے۔ پردہ کے مسئلہ پر آپ کے افکار عالیہ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ لیکن آخر میں آپ نے مروجہ برقع کو بھی(Demond) کیا ہے۔ اس کے متعلق دو ایک باتیں دل میں کھٹکتی ہیں۔ براہ مہربانی ان پر روشنی ڈال کر مشکور فرمائیں۔

غیر محرم قریبی اعزہ سے پردہ کی صورت

سوال: کیا شوہر بیوی کو کسی ایسے رشتہ دار یا عزیز کے سامنے بے پردہ آنے کے لیے مجبور کرسکتا ہے جو شرعاً بیوی کے لیے غیر محرم ہو؟ نیز یہ کہ سسرال اور میکے کے ایسے غیر محرم قریبی رشتہ دار جن سے ہمارے آج کل کے نظام معاشرت میں بالعموم عورتیں پردہ نہیں کرتیں، ان سے پردہ کرنا چاہئے یا نہیں؟ اور اگر کرنا چاہئے تو کن حدود کے ساتھ؟

پردہ کے متعلق چند عملی سوالات

سوال: آپ کی کتاب’’پردہ‘‘ کے مطالعہ کے بعد میں نے اور میری اہلیہ نے چند ہفتوں سے عائلی زندگی کو قوانین الہٰیہ کے مطابق بنانے کی سعی شروع کر رکھی ہے۔ مگر ہمارے اس جدید رویہ کی وجہ سے پورا خاندان بالخصوص ہمارے والدین سخت برہم ہیں اور پردہ کو شرعی حدود و ضوابط کے ساتھ اختیار کرنے پر برافروختہ ہیں۔ خیال ہوتا ہے کہ کہیں ہم ہی بعض مسائل میں غلطی پر نہ ہوں۔ پس تسلی کے لیے حسب ذیل امور کی وضاحت چاہتے ہیں:

لباس اور چہرے کی شرعی وضع

سوال: مطالبہ کیا جاتا ہے کہ صحیح معنوں میں مسلمان بننے کے لیے آدمی کو لباس اور چہرے کی اسلامی وضع قطع اختیار کرنی چاہئے۔براہ کرم بتائے کہ اس سلسلے میں اسلام نے کیا احکامات دیے ہیں؟

ڈاڑھی کے متعلق ایک سوال

سوال: ’’میں نے ڈاڑھی رکھ لی ہے۔ میرے کچھ ایسے رشتہ دارجو علم دین سے کافی واقف ہیں، وہ اعتراض کرتے ہیں کہ ڈاڑھی فرض نہیں ہے، قرآن میں اس کے متعلق کوئی حکم نہیں ملتا، ڈاڑھی نہ رکھی جائے تو کونسا گناہ کبیرہ ہے۔ یہ رسول کی سستی محبت ہے۔ آپ فرمائے کہ میں انہیں کیا جواب دوں؟‘‘

ڈاڑھی کی مقدار کا مسئلہ

سوال: ڈاڑھی کی مقدار کے عدم تعین پر ’’ترجمان‘‘ میں جو کچھ لکھا گیا ہے، اس سے مجھے تشویش ہے، کیونکہ بڑے بڑے علماء کا متفقہ فتویٰ اس پر موجود ہے کہ ڈاڑھی ایک مشت بھر لمبی ہونی چاہیے اور اس سے کم ڈاڑھی رکھنے والا فاسق ہے۔ آپ آخر کن دلائل کی بنا پر اس اجماعی فتویٰ کو رد کرتے ہیں۔