تحقیق حدیث دجال

سوال: ترجمان القرآن میں کسی صاحب نے سوال کیا تھا کہ ’’کانے دجال کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کہیں مقید ہے، تو آخر وہ کونسی جگہ ہے؟ آج دنیا کا کونہ کونہ انسان نے چھان مارا ہے۔ پھر کیوں کانے دجال کا پتہ نہیں چلتا؟‘‘ اس کا جواب آپ کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ ’’کانا دجال وغیرہ تو افسانے ہیں جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے‘‘۔ لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے، کم از کم تیس روایات میں دجال کا تذکرہ موجود ہے، جس کی تصدیق بخاری شریف، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، شرعی السنہ بیہقی کے ملاحظہ سے کی جاسکتی ہے۔ پھر آپ کا جواب کس سند پر مبنی ہے؟

فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج

سوال: رسائل و مسائل اوّل میں صفحہ۵۳ پر آپ نے لکھا ہے کہ ’’یہ کانا دجال وغیرہ تو افسانے ہیں جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے‘‘۔ ان الفاظ سے متباور یہی ہوتا ہے کہ آپ سرے سے دجال ہی کی نفی کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسی کتاب کے دوسرے ہی صفحہ پر آپ نے توضیح کر دی ہے کہ جس چیز کو آپ نے افسانہ قرار دیا ہے وہ بجائے خود دجال کے ظہور کی خبر نہیں بلکہ یہ خیال ہے کہ وہ آج کہیں مقید ہے، لیکن کیا یہ اچھا نہ ہو گا کہ آپ مقدم الذکر عبارت ہی میں ترمیم کر دیں، کیونکہ اس کے الفاظ ایسے ہیں جن پر لوگوں کو اعتراض کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

چند متفرق سوالات:

سوال:(1) قرآن کریم میں ’’حق‘‘ کی اصطلاح کن کن معنوں میں استعمال ہوئی ہے؟ اور وہ معنی ان مختلف آیات پر کس طرح چسپاں کیے جاسکتے ہیں جو تخلیق کائنات بالحق، کتاب بالحق، رسالت بالحق اور لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ(الانفال8:8) کے تحت کی ہم آہنگی، تسلسل اور ارتقاء پر روشنی ڈالتے ہیں؟

قادیانیوں کی غلط تاویلات:

سوال:قادیانی مبلغ اپنا انتہائی زور اجرائے نبوت کے ثبوت پر صرف کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ مندرجہ ذیل آیتیں خصوصی طور پر پیش کرتے ہیں اور انہی پر اپنے دعوے کی بنیاد رکھتے ہیں:

(۱) وَمَن يُطِعِ اللّهَ وَالرَّسُولَ فَأُوْلَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاء وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (النساء 69:4)

’’اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے۔ یعنی انبیا اور صدیقین اور شہداء اور صالحین، کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں‘‘۔

اس سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ان آیات میں بالترتیب چار چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ انبیا اور صدیقین اور شہداء اور صالحین۔ ان کی دانست میں ان میں سے تین درجے یعنی صدیقین، شہداء اور صالحین تو امت محمدیہ ﷺ کو مل چکے ہیں، لیکن چوتھا درجہ نبی ہونا باقی تھا اور وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ملا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر معیت کا مطلب یہ ہے کہ امت محمدیہ کے لوگ قیامت کے دن صرف مذکورہ گروہ کی رفاقت میں ہوں گے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ امت محمدیہ میں کوئی صالح، شہید اور صدیق ہے ہی نہیں اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر جب آیت میں چار مراتب (گروہوں) کا ذکر کیا گیا ہے تو پھر گروہ انبیا کے امت میں موجود ہونے کو کس دلیل کی بنا پر مستثنیٰ کیا جاتا ہے۔