بندوق کے شکار کی حلت و حرمت

سوال: آپ نے تفہیم القرآن میں تکبیر پڑھ کر چھوڑی ہوئی بندوق کے مرے ہوئے شکار کو حلال لکھ کر ایک نئی بات کا اختراع کیاہے جس پر مندرجہ ذیل سوالات اٹھ رہے ہیں مہربانی فرما کر جواب دے کر مشکور فرمادیں۔ ۱۔ چاروں امام متفق ہیں کہ بندوق سے مرا ہوا شکار بوجہ چوٹ سے مرنے کے ناجائز اور حرام ہے پھر آپ نے کن دلائل کی بنا پر اس کو جائز لکھا ہے؟ ۲۔ بندوق کی گولی میں دھار نہیں ہوتی بلکہ اس کی ضرب شدید سے جانور مرتا ہے۔ کارتوسوں پرعام طور پر لکھا ہوتا ہے کہ…