غلافِ کعبہ کی نمائش اور جلوس

سوال: حال ہی میں بیت اللہ کے غلاف کی تیاری اور نگرانی کا جو شرف پاکستان اور آپ کو ملا ہے وہ باعث فخر و سعادت ہے۔ مگر اس سلسلے میں بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی وارد ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے پہلے تو آپ کی نیت پر حملے کیے گئے ہیں اور یہ کہا گیا ہے کہ دراصل آپ اپنے اور اپنی جماعت کے داغ مٹانا اور پبلسٹی کرنا چاہتے تھے اور آئندہ انتخابات میں کامیابی کے خواہاں تھے، اس لیے آپ نے اس کام کو اپنے ہاتھ میں لیا تاکہ شہرت بھی حاصل ہو اور الیکشن فنڈ کے لیے لاکھوں روپے بھی فراہم ہوں۔ اس کے بعد بعض اعتراضات اصولی اور دینی رنگ میں پیش کیے گئے ہیں۔ مثلاً کہا گیا ہے کہ:

ایک مصالحانہ تجویز

سوال: پاکستان دستور سازی کے نازک مرحلہ سے گزر رہا ہے۔ پاکستان کا ایک خاص طبقہ دستور اسلامی سے گلوخلاصی حاصل کرنے کی فکر میں ہے۔ ایسے حالات میں جمات اسلامی اور علمائے کرام کی باہمی چپقلش افسوسناک ہے۔ جماعت اسلامی جس کے بنیادی مقاصد میں دستور اسلامی کا عنوان ابھرا ہوا رکھا گیا ہے، بھی اس اختلاف کے میدان میں ایک فریق کی حیثیت اختیار کر کے خم ٹھونک کر ڈٹ گئی ہے۔ کیا اس معاملہ کو اس طرح نہیں سلجھایا جاسکتا کہ چند نامور علماء کو (اس مقام پر مکتوب نگار نے پانچ بزرگوں کے نام دیے ہیں، ہم نے مصلحتاً ناموں کی اس فہرست کو حذف کر کے چند نامور علماء کے الفاظ لکھ دیے ہیں) ثالث تسلیم کرتے ہوئے جماعت اسلامی فریق ثانی کو دعوت دے کہ وہ جماعت اسلامی کی تمام قابل اعتراض عبارتوں کو ان حضرات کی خدمت میں پیش کر دے ان علماء کرام کی غیر جانبداری، علم و تقویٰ اور پرہیز گاری شک و شبہ سے بالا ہے (کمال یہ ہے کہ ان پانچ غیر جانبدار حضرات میں سے ایک گزشتہ انتخابات پنجاب میں جماعت اسلامی کی مخالفت میں سرگرم رہ چکے ہیں اور وہ بزرگ ان دنوں ’’جہاد‘‘ میں مصروف ہیں) اگر کوئی عبارت قابل اعتراض نہ ہو تو مولانا مودودی کی عزت میں یقینا اضافہ ہوگا۔ اور اگر علمائے کرام ان عبارتوں کو قابل اعتراض قرار دیں تو مولانا مودودی صاحب ان سے دست برداری کا اعلان فرما دیں۔ یہ تمام مراحل اس صورت میں طے ہو سکتے ہیں کہ اخلاص اور آخرت مطلوب ہو۔

بے بنیاد اندیشے

سوال: حال ہی میں (لاہور کا ایک اخبار) کے ذریعہ علماء کے بعض حلقوں نے آپ کی تیرہ برس پہلے کی تحریروں کو سیاق و سباق سے علیحدہ کر کے ان پر فتوے جڑ جڑ کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن میں ان تحریروں سے گمراہ نہیں ہو سکا۔ لیکن آج ہی ایک شخص نے مجھے وہ مقابلہ دکھایا جس میں آپ کی اور جمعیت العلماء پاکستان کے ایک اعلیٰ رکن کی گفتگو درج ہے۔ جس میں آپ کو کہا گیا ہے کہ آپ مہدی ہونے کا دعویٰ تو نہیں کریں گے، لیکن اندیشہ ہے کہ آپ کے معتقدین آپ کو مہدی سمجھنے لگ جائیں گے۔ چنانچہ مطالبہ کیا گیا کہ آپ اعلان فرما دیں کہ میرے بعد مجھے مہدی کوئی نہ کہے۔ لیکن آپ نے اس پر خاموشی اختیار کر لی جس پر لوگوں کو اور بھی شک گزر رہا ہے‘‘۔

طریق انتخاب

سوال: مجھے آپ کی خدمت میں ایک وضاحت پیش کرنا ہے۔ میں نے کچھ عرصہ قبل اپنی ذاتی حیثیت میں تجربۃً دس سالوں کے لیے مخلوط انتخاب کی حمایت کی تھی۔ اپنے حق میں دلائل دینے کے ساتھ ہی میں نے یہ بھی کہا تھا کہ مخلوط انتخاب کی مخالفت میں سب سے اونچی آواز جماعت اسلامی کی طرف سے اٹھائی جارہی ہے۔ پھر میں نے کم و بیش مندرجہ ذیل الفاظ کہے تھے۔ ’’جماعت اسلامی میں ایسے لوگ ہیں جن کے لیے میرے قلب و جگر میں انتہائی احترام و عقیدت کا سرمایہ ہے لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جماعت نے پاکستان کے لیے جدوجہد نہیں کی تھی اور اگر ہندوستان تقسیم نہ ہوتا تو کیا اس صورت میں متحدہ ہندوستان میں جماعت اسلامی جداگانہ انتخابات کے حق میں آواز بلند کرتی؟‘‘ اس کے بعد جماعت کے بعض دوستوں نے مجھ سے گلہ کیا میں نے ان سے عرض کیا کہ میں ایک دلیل تعمیر کر رہا تھا جس سے مقصود جماعت اسلامی پر حملہ کرنا نہیں تھا، بلکہ اپنے نقطہ نگاہ کے جواز میں وزن پیدا کرنا تھا۔ میں نے آپ کی خدمت میں بھی اس صراحت کو پیش کرنا ضروری سمجھا تاکہ غلط فہمی رفع ہو جائے‘‘۔

جماعت کا موقف اور طریقِ کار

سوال: اگرچہ میں جماعت کا رکن نہیں ہوں، تاہم اس ملک میں مغربیت کے الحادی مضرات کا جماعت جس قدر مقابلہ کر رہی ہے اس نے مجھے بہت کچھ جماعت سے وابستہ کر رکھا ہے اور اسی وابستگی کے جذبہ کے تحت اپنی ناقص آراء پیش کر رہا ہوں۔

پاکستان میں دستور و انتخاب کا مسئلہ ازسرنو قابل غور ہے اور نہایت احتیاط و تدبر سے کسی نتیجہ و فیصلہ پر پہنچنے کی ضرورت ہے، اس لیے کہ موجودہ دستور اپنی پوری ہیئت ترکیبی کے لحاظ سے قطعی طور پر اسلام کی حقیقی بالادستی کو تسلیم نہیں کرتا۔ کتاب و سنت سے ثابت شدہ متفق علیہ احکام کا اجراء و نفاذ بھی موجودہ دستور کی رو سے لیجسلیچر اور صدر مملکت کی منظوری کا محتاج ہے۔ قطع نظر اس بات کے کہ ایسی صورت میں قوانین الٰہیہ بھی انسانی آراء کی منظوری کے محتاج بن جاتے ہیں، سخت اندیشہ ہے کہ تعبیرات کی تبدیلی سے بہت سے وہ کام جواسلام کی نظر میں اب تک ناجائز نہیں رہے ہیں، اس ملک کی تعزیرات میں جرائم کی فہرست میں شامل ہو جائیں اور بہت سے وہ کام جنہیں اسلام قطعاً پسند نہیں کرتا مباحات کی فہرست میں داخل کر دیے جائیں۔ موجودہ دستور نے قرآن و سنت کو ایک طرف اسمبلی کی کثرت آراء کی منظوری و تعبیر فرمائی کا تابع بنا دیا ہے، دوسری طرف صدر مملکت کی رضامندی اور دستخطوں کا پابند بنا دیا ہے اور تیسری طرف عدالتوں کی تشریح و توضیح کا محتاج بنا دیا ہے۔ حالانکہ دستور میں صدر مملکت، ارکان وزارات، ارکان اسمبلی اور ارکان عدالت کی اسلامی اہلیت کے لیے ایک دفعہ بھی بطور شرط لازم نہیں رکھی گئی ہے اور ان کے لیے اسلامی علم و تقویٰ کے معیار کو سرے سے ضروری سمجھا ہی نہیں گیا ہے، ایسی صورت میں اس دستور کو اسلامی دستور کہنا اور سمجھنا ہی قابل اعتراض ہے کجا کہ اسے قبول کرنا اور قابل عمل بنانا۔

تبلیغی جماعت کے ساتھ تعاون

سوال: ایک بات عرصہ سے میرے ذہن میں گشت کر رہی ہے جو بسا اوقات میرے لیے ایک فکر کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ میں اللہ سے خصوصی طور پر اس امر کے لیے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان ذی علم اور باصلاحیت حضرات کو اس طرف متوجہ کر دے جن کی کوششوں میں بہت سی تاثیر پوشیدہ ہے، جن کے قلب و دماغ کی طاقت سے بہت کچھ بن سکتا ہے اور بگڑ سکتا ہے۔ امت کی اصلاح بھی ہو سکتی ہے، تفرقے بھی مٹ سکتے ہیں، تعمیری انقلاب بھی برپا ہو سکتا ہے اور وہ سب کچھ ہو سکتا ہے جو ناممکن نظر آتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کی قوت فکر کی یکجائی اور ہم آہنگی کے لیے ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں۔

امارتِ شرعیہ بِہار کا سوالنامہ اور اس کاجواب

سوال: دارالافتا امارتِ شرعیہ بہار وارڈیسہ (ہند) کے پاس جماعت اسلامی سے متعلق سوالات آتے رہتے ہیں جن میں اس طرف زیادتی ہے۔ سوالات میں زیادہ جماعت اسلامی اور اس کے ممبروں کی دینی حیثیت کے متعلق دریافت کیاجاتا ہے۔ ہم نے مناسب سمجھا کہ جماعت اسلامی کے ذمہ داروں سے براہ راست ذیل کے دفعات (جن کے متعلق سوالات آتے ہیں) سے متعلق استفسار کرایا جائے اور آپ حضرات سے ان کے جوابات طلب کر لیے جائیں تاکہ ان جوابات کی روشنی میں ہمیں جماعت اسلامی اور اس کے ممبروں اور ہمدردوں کی دینی حیثیت کے متعلق رائے قائم کرنے میں اور شرعی حکم بتلانے میں سہولت ہو۔ ہمارے خیال میں اس طرح اطمینان حاصل کیے بغیر کوئی شرعی حکم لگانا احتیاط کے خلاف ہوگا۔ آپ سے عرض ہے کہ مندرجہ ذیل سوالات کے جواب پورے اختصار کے ساتھ حتی الامکان محض نفی و اثبات میں اس طرح تحریر فرمائیں کہ ہمیں واضح طور پر معلوم ہو جائے کہ اس مسئلہ میں جماعت اور اس کے ذمہ داروں کا مسلک اور رائے یہ ہے۔ یہ خیال رہے کہ بعض دفعہ تطویل سے بات واضح ہو جانے کے بجائے اور مشتبہ ہو جاتی ہے۔ ہمارا مقصد آپ پر کوئی اعتراض کرنا نہیں ہے بلکہ جماعت کے متعلق مندرجہ ذیل مسائل میں تشفی کرنا ہے، اور جماعت اور اس کے ممبروں کی دینی حیثیت بتلانے میں اپنے لیے سہولت مہیا کرنا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ ہمدرد کے سوالات سمجھ کر جواب تحریر فرمائیں گے۔

دو شبہات

سوال:’’میں نے پورے اخلاص و دیانت کے ساتھ آپ کی دعوت کا مطالعہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں یہ اقرار کرتا ہوں کہ اصولاً صرف جماعت اسلامی ہی کا مسلک صحیح ہے۔ آپ کے نظریہ کو قبول کرنا اور دوسروں میں پھیلانا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ میرا ایمان ہے کہ اس دور میں ایمان کو سلامتی کے ساتھ لے کر چلنے کے لیے وہی راہ اختیار کی جاسکتی ہے جو جماعت اسلامی نے اختیار کی ہے۔ چنانچہ میں ان دنوں اپنے آپ کو جماعت کے حوالے کردینے پر تل گیا تھا، مگر ترجمان القرآن میں ایک دو چیزیں ایسی نظر سے گزریں کہ مزید غوروتامل کا فیصلہ کرنا پڑا۔ میں نکتہ چیں اور معترض نہیں ہوں بلکہ حیران و سرگرداں مسافر کی حیثیت سے، جس کو اپنی منزل مقصود کی محبت چین نہیں لینے دیتی، آپ سے اطمینان حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ مشارالیہ کے مسائل کے متعلق میری گزارشات پر غور فرمائیں۔

اسلامی نظام جماعت میں آزادی تحقیق

سوال: ’’تفہیمات‘‘ کا مضمون ’’مسلک اعتدال‘‘ جس میں صحابہ کرام اور محدثین کی باہمی ترجیحات کو نقل کیا گیا ہے اور اجتہاد مجتہد اور روایت محدث کو ہم پلہ قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے، اس مضمون سے حدیث کی اہمیت کم اور منکرین حدیث کے خیالات کو تقویت حاصل ہوتی ہے، یہ رائے نہایت درجہ ٹھنڈے دل سے غورو فکر کا نتیجہ ہے۔

اس قسم کے سوالات اگر آپ کے نزدیک بنیادی اہمیت نہیں رکھتے تو جماعت اسلامی کی ابتدائی منزل میں محدثین و فقہا اور روایت و درایت کے مسئلہ پر قلم اٹھانا مناسب نہیں تھا۔ اس مسئلہ کے چھیڑ دینے سے غلط فہمیاں پھیل نکلی ہیں۔ اب بہتر ہے کہ بروقت ان غلط فہمیوں کا ازالہ کردیا جائے کیونکہ حدیث کی اہمیت کو کم کرنے والے خیالات جس لٹریچر میں موجود ہوں اسے پھیلانے میں ہم کیسے حصہ لے سکتے ہیں، حالانکہ نظم جماعت اسے ضروری قرار دیتا ہے۔

میرا ارادہ ہے کہ اس سلسلے میں آپ کی مطبوعہ و غیر مطبوعہ تحریرں مع تنقید اخبارات و رسائل میں شائع کردی جائیں۔

جزئیاتِ شرع اور مقتضیاتِ دین

سوال: “اجتماع میں شرکت کرنے اور مختلف جماعتوں کی رپورٹیں سننے سے مجھے اور میرے رفقا کو اس بات کا پوری طرح احساس ہوگیا ہے کہ ہم نے جماعت کے لٹریچر کی اشاعت و تبلیغ میں بہت معمولی درجے کا کام کیا ہے۔ اس سفر نے گذشتہ کوتاہیوں پر ندامت اور مستقبل میں کامل عزم و استقلال اور اخلاص کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ دعا فرمائیں کہ جماعتی ذمہ داریاں پوری پابندی اور ہمت و جرات کے ساتھ ادا ہوتی رہیں۔

اس امید افزا اور خوش کن منظر کے ساتھ اختتامی تقریر کے بعض فقرے میرے بعض ہمدرد رفقا کے لیے باعث تکدر ثابت ہوئے اور دوسرے مقامات کے مخلص ارکان و ہمدردوں میں بھی بددلی پھیل گئی۔ عرض یہ ہے کہ منکرین خدا کا گروہ جب اپنی بے باکی اور دریدہ دہنی کے باوجود حلم، تحمل اور موعظۂ حسنہ کا مستحق ہے تو کیا یہ دین داروں کا متقشف تنگ نظر طبقہ اس سلوک کے لائق نہیں ہے؟ کیا ان کے اعتراضات و شبہات حکمت و موعظۂ حسنہ اور حلم و بردباری کے ذریعے دفع نہیں کیے جاسکتے؟ اختتامی تقریر کے آخری فقرے کچھ مغلوبیت جذبات کا پتہ دے رہے تھے۔

سوال: حالیہ اجتماع دارالاسلام کے بعد میں نے زبانی بھی عرض کیا تھا اور اب بھی اقامت دین کے فریضہ کو فوق الفرائض بلکہ اصل الفرائض اور اسی راہ میں جدوجہد کرنے کو تقویٰ کی روح سمجھنے کے بعد عرض ہے کہ “مظاہر تقویٰ” کی اہمیت کی نفی میں جو شدت آپ نے اپنی اختتامی تقریر میں برتی تھی وہ نا تربیت یافتہ اراکین جماعت میں “عدم اعتنا بالسنتہ” کے جذبات پیدا کرنے کا موجب ہوگی اور میں دیانتہً عرض کرتا ہوں کہ اس کے مظاہر میں نے بعد از اجلاس ملاحظہ کیے۔ اس شدت کا نتیجہ بیرونی حلقوں میں اولاً تو یہ ہوگا کہ تحریک کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جائے گا۔ کیوں کہ اس سے پہلے بھی بعض داعیین تحریک نے “استہزابالستنہ” کی ابتدا اسی طرح کی تھی کہ بعض مظاہر تقویٰ کو اہمیت دینے اور ان کا مطالبہ کرنے میں شدت اختیار کرنے کی مخالفت جوش و خروش سے کی۔ دوسرے یہ کہ شرارت پسند عناصر کو ہم خود گویا ایک ایسا ہوائی پستول فراہم کردیں گے جو چاہے درحقیقت گولی چلانے کا کام ہر گز نہ کرسکے مگر اس کے فائر کی نمایشی آواز سے حق کی طرف بڑھنے والوں کو بدکایا جاسکے گا۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے معاملات میں عوام کے مبتلائے فتنہ ہوسکنے کا لحاظ رکھا ہے۔ چنانچہ بیت اللہ کی عمارت کی اصلاح کا پروگرام حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے محض قوم کی جہالت اور جدید العہد بالاسلام ہونے کے باعث ملتوی کردیا تھا اور پھر اتنی احتیاط برتی کہ کبھی کسی وعظ اور خطبے میں لوگوں کو اس کی طرف توجہ تک نہیں دلائی، بجز اس کے کہ درون خانہ حضرت عائشہ صدیقہؐ سے آپ نے اس کا تذکرہ ایک دفعہ کیا۔

  • 1
  • 2