حضرت موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کے متعلق چند سوالات

سوال: سیاسی کشمکش حصہ سوم میں صفحہ۹۵ پر آپ لکھتے ہیں ’’پہلا جزیہ ہے کہ انسان کو بالعموم اللہ کی حاکمیت و اقتدار اعلیٰ تسلیم کرنے اور اس کے بھیجے ہوئے قانون کو اپنی زندگی کا قانون بنانے کی دعوت دی جائے، دعوت عام ہونی چاہئے اور اس کے ساتھ دوسری غیر متعلق چیزوں کی آمیزش نہ ہونی چاہئے۔‘‘ کیا دعوت توحید کے ساتھ رہائی بنی اسرائیل کا مطالبہ جو حضرت موسیٰ ؑ نے کیا غیر متعلق چیز نہ تھی؟ پھر آپ لکھتے ہیں: ’’دوسرا جزیہ ہے کہ جتھا ان لوگوں کا بنایا جائے جو اس دعوت کو جان بوجھ…

بعثت سے پہلے انبیاء کا تفکر

سوال: آپ نے تفہیم القرآن میں سورۃ انعام کے رکوع ۹ سے تعلق رکھنے والے ایک توضیحی نوٹ میں لکھا ہے کہ: ’’وہ(حضرت ابراہیم ؑ) ھٰذا ربی کہنے سے شرک کے مرتکب نہیں ہوئے۔ کیونکہ ایک طالب حق اپنی جستجو کی راہ میں سفر کرتے ہوئے بیچ کی منزلوں پر غورو فکر کے لیے ٹھہرتا ہے، اصل اعتبار ان کا نہیں بلکہ اس سمت کا ہوتا ہے جس پر وہ پیش قدمی کررہا ہے۔‘‘ سوال یہ ہے کہ اگر نبوت وہبی ہوتی تو حضرت ابراہیم ؑ کو عام انسانوں کی طرح خدا کے الہٰ ہونے یا نہ ہونے کے مسئلے…

عصمت انبیاء

سوال: یہ امرمسلّم ہے کہ نبی معصوم ہوتے ہیں، مگر آدم علیہ السلام کے متعلق قرآن کے الفاظ صریحاً ثابت کررہے ہیں کہ آپ نے گناہ کیا اور حکم عدولی کی ہے، جیسے وَلَا تَقْرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوْنَا مِنَ الْظّٰلِمِیْنَ (البقرۃ:۳۵) کی آیت ظاہر کررہی ہے۔ اس سلسلے میں اپنی تحقیق کے نتائج سے مستفید فرمائیں۔ جواب: نبی کے معصوم ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فرشتوں کی طرح اس سے بھی خطا کا امکان سلب کر لیا گیا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ نبی اول تو دانستہ نافرمانی نہیں کرتا اور اگر اس سے…

علم غیب رسل

سوال: ایک عالم دین نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’’رسول کو عالم غیب سے وہی باتیں بتائی جاتی ہیں جن کو اللہ ان کے توسط سے اپنے بندوں کے پاس بھیجنا چاہتا ہے۔‘‘ استدلال میں یہ آیت پیش کی ہے۔ عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہٖٓ اَحَدًاO اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّہٗ یَسْلُکُ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ رَصَدًاO لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمْ(الجن:26-27-28) یعنی’’وہ غیب کا عالم ہے اور وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلق نہیں کرتا سوائے اس رسول کے جس کو اس نے چن لیا ہو، پھر وہ اس کے آگے اور…

انسانیت کے مورثِ اعلیٰ، حضرت آدمؑ

سوال:(۱) قرآن مجید نے حضرت آدم علیہ السلام کا ذکر جس انداز سے کیا ہے وہ اس حقیقت کا آئندہ دار ہے کہ نوع بشری کے یہ سب سے پہلے رکن بڑے ہی مہذب تھے۔ اس سلسلہ میں جو چیز میرے ذہن میں خلش پیدا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس متمدن انسان کی صلب سے وحشی قبائل آخر کس طرح پیدا ہو گئے۔ تاریخ کے اوراق پر نگاہ ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قبائل اخلاق اور انسانیت کی بالکل بنیادی اقدار تک سے نا آشنا ہیں۔ نفسیات بھی اس امر کی تائید کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ وحشی انسانوں اور حیوانوں کے مابین کوئی بہت زیادہ فرق نہیں سوائے اس ایک فرق کے کہ انسان نے اپنی غور وفکر کی قوتوں کو کافی حد تک ترقی دے دی ہے۔ یہ چیز تو مسئلہ ارتقاء کو تقویت پہنچاتی ہے مجھے امید ہے کہ آپ میری اس معاملہ میں رہنمائی فرما کر میری اس خلش کو دور کریں گے اور اس امر کی وضاحت فرمائیں گے کہ ابتدائی انسان کی تخلیق کی نوعیت کیا تھی اور اس کے جبلی قویٰ کس سطح پر تھے؟

چند مزیداعتراضات:

ایک صاحب نے ایک طویل مکتوب کی شکل میں مدیر ’’ترجمان‘‘ کی بعض تحریروں پر اعتراضات وارد کیے ہیں۔ مدیر ’’ترجمان‘‘ نے ان کا مفصل جواب دیا ہے، افادہ عام کی خاطر سوالات و جوابات کو یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔

راقم عریضہ کافی عرصے سے آپ کی تصنیفات کا یک جہتی سے مطالعہ کر رہا ہے۔ چند شبہات ایسے واقع ہوئے کہ باوجود کافی حسن ظن کے دل میں بے حد خلجان پیدا کر رہے ہیں۔ عمائدین جماعت سے بالمشافہ کئی مرتبہ گفتگو ہوئی، لیکن بجائے ازالہ، اضافہ ہوتا رہا۔ انہی مخلصین کے مشورے سے یہ طے پایا کہ براہ راست جناب سے استفادہ کیا جائے، لہٰذا جناب کو تکلیف دی جاتی ہے کہ مسائل مندرجہ ذیل کا تشفی جواب تحریر فرما کر ممنون فرمائیں۔ اگر مناسب خیال فرمائیں تو ترجمان میں شائع فرما دیں، تاکہ فائدہ عام ہو جائے۔