پاکستان میں مسیحیت کی ترقی کے اصل وجوہ

سوال: اس ملک کے اندر مختلف قسم کے فتنے اٹھ رہے ہیں۔ سب سے زیادہ خطرناک فتنہ عیسائیت ہے۔ اس لیے کہ بین المملکتی معاملات کے علاوہ عام مسلمانوں کی اقتصادی پسماندگی کی وجہ سے اس فتنہ سے جو خطرہ لاحق ہے وہ ہر گز کسی دوسرے فتنہ سے نہیں۔

اندریں حالات جب کہ اس عظیم فتنے کے سدباب کے لیے تمام تر صلاحیت سے کام لینا ازحد ضروری تھا۔ ابھی تک جناب کی طرف سے کوئی موثر کارروائی دکھائی نہیں دیتی بلکہ آپ اس فتنہ سے مکمل طور پر صَرف نظر کر چکے ہیں۔ ابھی تک اس طویل خاموشی سے میں یہ نتیجہ اخذ کر چکا ہوں کہ آپ کے نزدیک مسیحی مشن کی موجودہ سرگرمی مذہبی اعتبار سے قابل گرفت نہیں اور اس فتنے کو اس ملک میں تبلیغی سرگرمی جاری رکھنے کا حق حاصل ہے، خواہ مسلمانوں کے ارتداد سے حادثہ عظمیٰ کیونکر ہی پیش نہ ہو۔ مہربانی فرما کر بندہ کی اس خلش کو دور کریں۔

حجر اسود اور خانۂ کعبہ کے متعلق غیر مسلموں کی غلط فہمیاں

سوال: یہاں (اسلامک کلچر سینٹر لندن میں) چند انگریز لڑکیاں جمعہ کے روز آئی ہوئی تھیں۔ بڑے غور سے نماز کو دیکھتی رہیں۔ بعد میں انہوں نے ہم سے سوال کیا کہ آپ لوگ جنوب مشرق کی طرف منہ کر کے کیوں نماز پڑھتے ہیں؟ کسی اور طرف کیوں نہیں کرتے؟ وہ بھی تو ایک پتھر ہے جیسے دوسرے پتھر۔ اس طرح تو یہ بھی ہندوؤں ہی کی طرح بت پرستی ہوگئی، وہ سامنے بت رکھ کر پوجتے ہیں اور مسلمان اس کی طرف منہ کرکے سجدہ کرتے ہیں۔ ہم انہیں تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ براہِ کرم ہمیں اس کے متعلق کچھ بتائیں تاکہ پھر ایسا کوئی موقع ہو تو ہم معترضین کو سمجھا سکیں۔

ایک ہندو دوست کا خط اور اس کا جواب

’’دیر کے بعد خط لکھ رہا ہوں۔ اس طویل غیر حاضری کی وجہ صرف یہ خیال تھا کہ آپ کی جملہ تصنیفات کو مطالعہ کرنے کے بعد اپنے خیالات کو آپ کی خدمت میں وضاحت سے پیش کرسکوں گا۔سو اب آپ کی کلیات کا ایک مرتبہ سرسری مطالعہ کر چکا ہوں۔ فی الحقیقت اپنے مشن کے لیے جہاں تک اخلاص کا تعلق ہے۔ میں نے آپ کو شری…… کے بعد واحد پہلا اور آخری رہنما پایا ہے۔ ’’آخری‘‘ کا لفظ میں نے جان بوجھ کر استعمال کیا ہے۔ شری…… جی جنہیں میں موجودہ دور میں ہندوؤں کی عظیم ترین شخصیت…

گائے، تناسخ اور گرنتھ صاحب

سوال: حسب ذیل امور کے متعلق اپنی معلومات کی روشنی میں حقیقت کی طرف رہنمائی فرمائیے۔

(۱) گائے کی تعظیم و تقدیس جو ہندو بھائیوں میں رائج ہے، اس کی وجہ سے سینکڑوں دفعہ ہندو مسلم فسادات واقع ہوچکے ہیں۔ آخر یہ کیا مسحوریت ہے کہ ہندوؤں میں بڑے بڑے معقول عالم موجود ہیں لیکن کوئی اس مسئلہ کی نوعیت پر غور نہیں کرتا، حتٰی کہ گاندھی جی جیسے فہمیدہ اور جہاندیدہ لیڈر بھی مذہبیت کی اس کشتی پر سوار ہیں جسے عوام نے ایسے ہی چند مسائل پر جوڑ ملا کر تعمیر کیا ہے۔ آپ اس گائے کی پوجا پر روشنی ڈالیں اور واضح کریں کہ یہ کب سے شروع ہوئی اور کیسے پھیلی تو ممکن ہے کہ کچھ حق پسند ہندو مطمئن ہوجائیں اور اپنی قوم کی اصلاح کریں۔

دورِ جدید کی رہنما قوت، اسلام یا عیسائیت؟

سوال: بیسوی صدی کے اس مہذب ترقی یافتہ دور کی رہنمائی مذہبی نقطہ نظر سے اسلام کر سکتا ہے یا عیسائیت؟ کیا انسان کو سیکولرازم یا دہریت روحانی و مادی ترقی کی معراج نصیب کرا سکتی ہے؟ بالخصوص کمیونزم کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنے اور ختم کرنے کی صلاحیت کس میں ہے؟

اسلامی حکومت میں متعصب مستشرقین کے افکار کی اشاعت

سوال: کیا اسلامی ملک میں ان مغربی مستشرقین، غیر مسلم اسکالرز اور پروفیسروں کو تعلیم یا تقریر کے لیے مدعو کیا جاسکتا ہے جنہوں نے اپنے نقطہ نظر سے اسلام کے موضوعات پر کتابیں لکھتے ہوئے نہ صرف اسلام پر بے جا تنقیدی تبصرے کیے ہیں بلکہ عمداً یا کم علمی و تعصب سے اسلامی تاریخ لکھنے میں حضور اکرمؐ، اہل بیت، خلفائے راشدین، صحابہ کرام، و آئمہ کرام (جن پر اسلام اور مسلمانوں کو فخر ہے) کی شان میں نازیبا فقرات لکھ کر ہدف ملامت بنایا ہے۔ مثلاً امریکی و برطانوی قابل ترین پروفیسروں کی نظرثانی شدہ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں بھی دیگر اعتراضات کے علاوہ رسول مقبول کی ازواج مطہرات کو (Concubines) (لونڈیاں) لکھا ہے۔ ان میں سے اکثر کے یہاں آکر لیکچر اور خطبات دینے اور ان کی تشہیر کرنے پرکیا اسلامی حکومت بالکل پابندی عائد نہ کر دے گی؟ یا ان کتابوں اور زہر آلود لٹریچر کی ہماری لائبریریوں میں موجودگی گوارا کی جاسکتی ہے؟ حکومت ان کے جوابات و تردید شائع کرنے ان کی تصحیح کرانے یا ان سے رجوع کرانے کے لیے کیا اقدام کر سکتی ہے؟

یہود کی ذلت و مسکنت

سوال: میرے ذہن میں دو سوال بار بار اٹھتے ہیں۔ ایک یہ کہ ضُرِبَتْ عَلَیْھِمْ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃ ُ جو یہود کے بارے میں نازل ہوا ہے اس کا مفہوم کیا ہے؟ اگر اس کا مطلب وہی ہے جو معروف ہے تو فلسطین میں یہود کی سلطنت کے کیا معنی؟ میری سمجھ میں اس کی تفسیر انشراحی کیفیت کے ساتھ نہ آسکی۔ اگر اس کے معنی یہ لیے جائیں کہ نزول قرآن پاک کے زمانے میں یہود ایسے ہی تھے تو پھر مفسرین نے دائمی ذلت و مسکنت میں کیوں بحثیں فرمائی ہیں۔ بہرحال یہود کے موجودہ اقتدار و تسلط کو دیکھ کر ذلت و مسکنت کا واضح مفہوم سمجھ میں نہیں آیا۔