پاکستان میں شرعی سزاؤں کے نفاذ کا سلسلہ

سوال: پاکستان میں جماعت اسلامی کے مخالف حضرات پھر اس مہم کو چلانے کی تیاریاں کر رہے ہیں اس سلسلہ میں وہ سب سے زیادہ زور اس مسئلہ پر دیتے ہیں کہ مولانا مودودی اور جماعت اسلامی پاکستان میں حدود و قصاص اور شرعی سزاؤں کو ظلم کہتے ہیں حالانکہ یہ قرآن کی تجویز کردہ سزائیں ہیں۔ حال ہی میں ایک ممتاز عالم نے قومی اسمبلی میں آپ کے متعلق اس قسم کا ایک بیان دیا ہے جو بعض جرائد میں شائع ہوچکا ہے ان حضرات کا کہنا ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں جب ہم جرائم کے انسداد کی غرض سے شرعی سزاؤں کے نفاذ کے لیے کوئی بل پیش کرتے ہیں تو الحاد پرست ممبروں کی طرف سے ہماری مخالفت اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ مولانا مودودی نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ پاکستان کی مخلوط سوسائٹی میں حدود اور شرعی سزاؤں کا نفاذ ظلم ہے۔ اور مولانا کی تحریریں پڑھ کر ہمیں سنائی جاتی ہیں۔ یہ حضرات اسمبلیوں سے باہر آکر لوگوں سے کہا کرتے ہیں کہ پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام اور حدود و قصاص اور شرعی سزاؤں کے نفاذ کی راہ میں سب سے زیادہ رکاوٹ وہی لوگ ڈالتے ہیں جو خود اس ملک میں اسلامی نظام کے قیام کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں یعنی آپ اور جماعت اسلامی۔
سوال: تفہیمات کا مضمون (قطع ید اور دوسرے شرعی حدود) ایک عرصہ سے عنوان بحث بنا ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں جناب مفتی صاحب سے رجوع کیا گیا۔ انہوں نے مضمون متذکرہ کو غور سے مطالعہ کرنے کے بعد حکم دیا ہے کہ مندرجہ ذیل استفسار آنجناب سے کیا جائے:

قتل مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض

سوال: (۱) إِنَّ الَّذِينَ آمَنُواْ ثُمَّ كَفَرُواْ ثُمَّ آمَنُواْ ثُمَّ كَفَرُواْ ثُمَّ ازْدَادُواْ كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلاَ لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلاً (سورہ نساء 137) کی تشریح کے سلسلے میں ایک مرزائی دوست نے یہ اعتراض اٹھایا ہے کہ سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے اپنی کتاب ’’مرتد کی سزا اسلامی قانون میں‘‘ میں لکھا ہے کہ جو ایک دفعہ اسلام لا کر اس سے پھر جائے، اسلام نے اس کے قتل کا حکم دیا ہے، لیکن قرآن مجید میں دوسری دفعہ ایمان لانا مندرجہ ذیل آیت سے ثابت ہے۔ براہ کرم یہ اشکال رفع فرمائیں۔

(۲) الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ أُوْلَئِكَ مُبَرَّؤُونَ مِمَّا يَقُولُونَ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (سورۃ نور 26) کا مفہوم کیا ہے؟

قرآن پاک میں چوری کی سزا

سوال: اس خط کے ہمراہ ایک مضمون ’’قرآن میں چور کی سزا‘‘ کے عنوان سے بھیج رہا ہوں۔ اگر ممکن ہو تو آپ اسے اپنے ماہنامہ میں شائع فرمادیں۔ میرا مقصد یہ ہے کہ مختلف لوگ اس پر اظہار خیال کریں اور اکثریت اگر میرے ساتھ متفق ہو تو پھر زنا کے جرم کے بارے میں بھی اسی طرح کی تشریح کی جائے۔

قرآن میں زنا کی سزا

سوال: آپ نے میرے مضمون ’’قرآن میں چور کی سزا‘‘ پر جو اظہار خیال فرمایا ہے، اس کے لیے شکریہ۔ اب اسی قسم کا ایک اور مضمون ’’قرآن میں زنا کی سزا‘‘ کے عنوان سے بھیج رہا ہوں۔ میری استدعا ہے کہ آپ اس پر بھی اظہار خیال فرمائیں۔ اگر خدا کو منظور ہوا تو جناب کی دونوں تنقیدوں کا یک جا جواب دوں گا۔

یہاں سرسری طور پر اس قدر گزارش کرنا ضروری ہے کہ آپ نے میری اس تشریح کے بارے میں نکتہ چینی نہیں فرمائی کہ قرآن نے جو سزا بیان کی ہے،وہ زیادہ سے زیادہ سزا ہے، اور کم سے کم سزا جج کی قوت تمیزی پر منحصر ہے اور نہ اس بارے میں کچھ فرمایا کہ دنیا میں کسی جرم کی سزا مجرم کو آخرت کی سزا سے محفوظ رکھتی ہے؟

قصاص اور دیت

سوال: قصاص اور دیت کے بارے میں چند استفسارات تحریر خدمت ہیں۔ ان کے جوابات ارسال فرمائیں۔

(الف) مقتول کے ورثاء میں سے کوئی ایک وارث دیت لے کر یا بغیر دیت لیے اگر اپنا حق قاتل کو معاف کردے تو کیا سزائے موت معاف ہوسکتی ہے؟ اس میں اقلیت و اکثریت کا کوئی لحاظ رکھا جاسکتا ہے یا نہیں؟ مثلاً تین بیٹوں میں سے ایک نے قصاص معاف کردیا، باقی دو قصاص لینے پر مصر ہیں تو قاضی کو کیا شکل اختیار کرنی ہوگی؟

قتل خطا اور اس کے احکام

سوال: ایک پنساری نے غلطی سے ایک خریدار کو غلط دوا دے دی جس سے خریدار خود بھی ہلاک ہوگیا اور دو معصوم بچے (جن کو خریدار نے وہی دوا بے ضرر سمجھ کر دے دی تھی) بھی ضائع ہوئے۔ یہ غلطی پنساری سے بالکل نادانستہ ہوئی۔ خون بہا اور خدا کے ہاں معافی کی اب کیا سبیل ہے؟ نیز یہ کہ خون بہا معاف کرنے کا کون مجاز ہے؟

تدوینِ قانون میں اکثریت کے مسلک کا لحاظ

سوال: آپ نے غالباً کہیں لکھا ہے یا کہا ہے کہ ملک میں فقہی مسلک کے لحاظ سے جن لوگوں کی اکثریت ہو، قوانین انہی کے فیصلوں کے مطابق بنائے جائیں گے اور قلیل گروہ (مثلاً پاکستان میں احناف کے بالمقابل شافعیہ، اہل حدیث اور شیعہ وغیرہ) کے لیے پرسنل لاء کی گنجائش رکھی جائے گی۔ اگر آپ کا خیال یہی ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اکثریت اپنے مخصوص مسلک کے آئینہ دار قوانین بنانے کی مجاز ہوگی جو آئمہ مجتہدین کے مجتہدات پر مبنی ہوں گے، یا آپ کی مراد یہ ہے کہ اکثریت سابق مفروضات کی بجائے محض کتاب و سنت کا بے آمیز مطالعہ کرے گی اور جن نتائج پر پہنچے گی، انہی کو قانونی جواز حاصل ہوگا؟ پہلی صورت میں قوانین کا ماخذ کتاب و سنت کی بجائے فقہائے کرام کی کتب متداولہ ہوں گی۔ لیکن یہ طریق شاید اسلامی حکومت کے مزاج کے منافی ہو۔ دوسری صورت میں ان قوانین کا ماخذ کتاب و سنت ہی ٹھہرے گا۔ لیکن اسکی کیا ضمانت ہے کہ مخصوص تفقہ کی حامل اکثریت خصوصی ڈگر کو چھوڑ کر کتاب وسنت کا مطالعہ کرے گی اور اس میں موروثی فکر و نظر اور مسلکی عصبیت و حمیت دخیل نہ ہوگی۔ اس تشویش کے اظہار سے میری غرض یہ نہیں ہے کہ فقہائے مجتہدین کے افکار عالیہ سے استفادہ نہ کیا جائے۔ صرف چند الجھنیں جو ذہن میں پیدا ہوئی ہیں، ان کا حل مطلوب ہے۔

اسلامی ریاست میں ذمی رعایا

سوال: ’’میں ہندو مہا سبھا کا ورکر ہوں۔سال گزشتہ صوبہ کی ہندو سبھا کا پروپیگنڈہ سیکریٹری منتخب ہوا تھا۔ میں حال ہی میں جناب کے نام سے شناسا ہوا ہوں۔ آپ کی چند کتابیں مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ اول و سوئم، اسلام کا نظریہ سیاسی، اسلامی حکومت کسی طرح قائم ہوتی ہے، سلامتی کا راستہ وغیرہ دیکھی ہیں،جن کے مطالعہ سے اسلام کے متعلق میرا نظریہ قطعاً بدل گیا ہے اور میں ذاتی طور پر یہ خیال کرتا ہوں کہ اگر یہ چیز کچھ عرصہ پہلے ہوگئی ہوتی تو ہندو مسلم کا مسئلہ اس قدر پیچیدہ نہ ہوتا۔ جس حکومت الہٰیہ کی آپ دعوت دے رہے ہیں اس میں زندگی بسر کرنا قابل فخر ہوسکتا ہے مگر چند امور دریافت طلب ہیں۔ خط و کتابت کے علاوہ ضرورت ہوگی تو جناب کا نیاز بھی حاصل کروں گا۔

اسلام میں قطع ید کی سزا

سوال: اسلام میں چوری کی سزا ہاتھ کا کاٹ دینا ہے۔ آج کل روزانہ سینکڑوں چوریاں ہوتی ہیں تو کیا روزانہ سینکڑوں ہاتھ کاٹے جائیں گے؟ بظاہر حالات یہ سزا سخت اور ناقابل عمل معمول ہوتی ہے۔

اسلامی ریاست میں شاتم رسولؐ ذمی کی حیثیت

سوال: راقم الحروف نے پچھلے دنوں آپ کی تصنیف ’’الجہاد فی الاسلام‘‘ کا مطالعہ کیا۔ اسلام کا قانون صلح و جنگ کے باب میں ص ۲۴۰ ضمن (۶) میں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ:

’’ذمی خواہ کیسے ہی جرم کا ارتکاب کرے اس کا ذمہ نہیں ٹوٹتا، حتیٰ کہ جزیہ بند کر دینا، مسلمانوں کو قتل کرنا، نبیﷺ کی شان میں گستاخی کرنا یا کسی مسلمان عورت کی آبروریزی کرنا، اس کے حق میں ناقض ذمہ نہیں ہے۔ البتہ صرف دو صورتیں ایسی ہیں کہ جن میں عقد ذمہ باقی نہیں رہتا۔ ایک یہ کہ وہ دارالاسلام سے نکلے اور دشمنوں سے جاملے، دوسرے یہ کہ حکومت اسلامیہ کے خلاف علانیہ بغاوت کر کے فتنہ و فساد برپا کرے‘‘۔

  • 1
  • 2