چند جدید ملحدانہ نظریات کا علمی جائزہ

سوال: میرے ایک عزیز جو ایک اونچے سرکاری منصب پر فائز ہیں، کسی زمانے میں پکے دیندار اور پابند صوم و صلوٰۃ ہوا کرتے تھے لیکن اب کچھ کتابیں پڑھ کر لامذہب ہوگئے ہیں۔ ان کے نظریات یکسر بدل چکے ہیں۔ ان نظریات کی تبلیغ سے بھی وہ باز نہیں آتے میں ان کے مقابلے میں اسلامی احکام و تعلیمات کی مدافعت کی پوری کوشش کر رہا ہوں لیکن اپنی کم علمی کی وجہ سے گزارش ہے کہ میری مدد فرمائیں۔ ان کے موٹے موٹے نظریات درج ذیل ہیں:

حقیقی توبہ

سوال: اس سے قبل میں مبتلائے کبائر تھا مگر اس کے بعد توبہ نصوح کر لی ہے اور اب آپ کی تحریک سے متاثر ہو کر اللہ کا شکر ہے کہ ایک ’’شعوری مسلمان‘‘ ہو گیا ہوں۔ لیکن دن رات اپنے آخروی انجام سے ہراساں رہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ آخرت کی بجائے دنیا ہی میں اپنے کیے کی سزا بھگت لوں۔ مگر افسوس کہ اسلامی سزا کا قانون ہی رائج نہیں ہے، للہ آپ میری مدد فرمائیں اور کوئی مناسب راہ متعین فرمائیں۔

اختیار اھون البلیتین کا شرعی قاعدہ

سوال:اختیار ’’اھون البلیتین‘‘ (دو بلاؤں میں سے کم درجے کی بلا کو اختیار کرنے کا مسئلہ) ایک سلسلے میں مجھ کو عرصہ سے کھٹک رہا ہے۔ آج کل اس مسئلہ کا استعمال کچھ اس طرح ہو رہا ہے کہ وضاحت ضروری ہوگئی ہے۔

ہم مسلمانوں میں سے چوٹی کے حضرات (جیسے علمائے دیو بند، مولانا حسین احمد مدنی، اور مولانا ابوالکلام آزاد) کا جماعت اسلامی کے پیش کردہ نصب العین سے اختلاف ایک ایسا سوال ہے جس پر میں دل ہی دل میں برابر غور کرتا رہا ہوں۔ میرا خیال یہ ہوا کہ ان حضرات کی نگاہ میں نصب العین کو ترک کرنا اہون ہوگا لہٰذا انہوں نے ترک کیا اور جماعت اسلامی کے نزدیک اس کا قبول کرنا اہون ہوگا لہٰذا انہوں نے اسے اختیار کرلیا۔ میں اسی سوچ بچار میں تھا کہ ترجمان القرآن میں مولانا حسین احمدمدنی کی ایک تحریر پڑھی جس میں واقعی یہ قرار موجود تھا کہ اھون البلیتین کو انہوں نے اختیار فرمایا ہے۔ اس پر مجھ کوحیرت ہوئی، پوری بات اور آگے چل کر کھلی جب ’’الانصاف‘‘ (انڈیا) میں جمعیت کی پالیسی کے متعلق مولانا کا یہ بیان نظر سے گزرا کہ کانگریس اور کمیونسٹ جو دو بلیتین تھیں ان میں سے ہم نے اہون کانگریس کو اختیار کیا ہے۔

اہل سنت اور اہل تشیع کا اختلاف

سوال: میں نے ایک دین دار شیعہ عزیز کی وساطت سے مذہب شیعہ کی بکثرت کتب کا مطالعہ کیا ہے۔ شیعہ سنی اختلافی مسائل میں سے جو اختلاف نماز کے بارے میں ہے ، وہ میرے لیے خاص طور پر تشویش کا باعث ہے۔ میں اپنے شکوک آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ تفصیلی جواب دے کر ان کا ازالہ فرمائیں۔

میرے شبہات نماز کی ہئیت قیام سے متعلق ہیں۔ نماز اولین رکن اسلام ہے۔ لیکن حیرت ہے کہ قیام میں ہاتھ باندھنے یا چھوڑ دینے کے بارے میں آئمہ اربعہ کے مابین اختلاف ہے اور پھر افسوس اس امر کا ہے کہ ارشاد نبوی ﷺ ’’انی تارک فیکم الثقلین، کتاب اللہ وعترتہ‘‘ کے باوجود آئمہ اہل سنت نے رفع اختلافات کے لیے اہل بیت کی طرف رجوع نہیں کیا، حالاں کہ امام اعظم ؒ اور امام مالک ؒ ، امام جعفر صادق ؒ کے معاصر بھی تھے۔ اس طرح رسول اللہﷺ کے گھر والوں کو چھوڑ کر دین کے سارے کام کو غیر اہل بیت پر منحصر کردیا گیا اور مسائل دین میں اہل بیت سے تمسک کرنا تو درکنار ان سے احادیث تک نہیں روایت کی گئیں، حالاں کہ بقول ’’صاحب البیت ادری بما فی البیت‘‘ دین کا اصل ماخذ آئمہ اہل بیت تھے۔ امام ابو حنیفہؒ و امام مالکؒ کا انحصار محض روایات پر تھا۔ برعکس اس کے امام جعفر صادقؒ نے اپنے والد امام باقر ؒ کو، انہوں نے زین العابدین ؒ کو اور انہوں نے حسینؒ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کو وہ قیام میں کیسے کھڑے ہوتے تھے۔ شنیدہ کے بودما ننددیدہ۔ آئمہ اہل بیت کی طرف اسی عدم رجوع کا نتیجہ ہے جو اہل سنت کے اختلافات کی شکل میں رونما ہوا ہے۔

اختلاف کے جائز حدود

سوال: تحریک کا ہمدرد ہونے کی حیثیت سے اس کے لٹریچر اور جرائد واخبارات کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔ اب تک بزرگان دیو بند اور دوسرے علما کی طرف سے جو فتوے شائع ہوتے رہتے ہیں اور ان کے جو جوابات امیر جماعت ہند و امیر جماعت پاکستان و دیگر اراکین جماعت کی طرف سے دیے گئے ہیں، سب کو بالالتزام پڑھتا رہتا ہوں۔ اپنے بزرگوں کی اس حالت کو دیکھ کر بہت صدمہ ہوتا ہے مگر سوائے افسوس کے اور چارہ کوئی نظر نہیں آتا۔

شفاعت کا صحیح تصور

سوال: کسی مولوی صاحب نے ایک اشتہار شائع کیا ہے جس میں آپ پر معتزلی اور خارجی ہونے کا فتویٰ لگایا ہے۔ بنائے فتویٰ یہ ہے کہ آپ نبی کریم ﷺ کی طرف سے قیامت کے روز امت کے بارے میں شفاعت کے منکر ہیں۔ اس کا حوالہ ترجمان القرآن جلد ۲۶، عدد ۱، ۲ صفحہ ۳۰ سے لیتے ہوئے آیت ’’جنگ کرو اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں لاتے‘‘ کے تشریحی نوٹ کا دیا ہوا ہے۔ یہ نوٹ یوں ہے : ’’وہاں کوئی سعی سفارش، کوئی فدیہ اور کسی بزرگ سے منتسب ہونا کام نہ آئے گا‘‘۔ اسی طرح تفہیمات سے بھی کوئی حوالہ اسی قسم کا اخذ کیا ہے۔

براہ کرم آپ بیان فرمائیں کہ اہل سنت کا عقیدہ شفاعت کے بارے میں کیا ہے۔ نبی ﷺ اپنی امت کی شفاعت کس حیثیت سے کریں گے، نیز آیا وہ ساری امت کی طرف سے شفیع ہوں گے؟

فرقہ بندی کے معنی

سوال: ’’آپ اپنی جماعت کے لوگوں کو سختی کے ساتھ فرقہ بندی سے منع کرتے ہیں اس ضمن میں میرا سوال یہ ہے کہ آخر صوم و صلوٰۃ و حج وغیرہ ارکان کو کسی نہ کسی مسلک کے مطابق ہی ادا کرنا ہوگا۔ تو پھر بتائیے کوئی مسلمان فرقہ بندی سے کیسے بچ سکتا ہے؟ میرا اپنا یہ خیال ہے کہ بموجب آپ کی رائے کے کہ قرآن و حدیث کے موافق جو مسئلہ ملے اس پر عمل کیا جائے۔ بجز اہل حدیث کے کسی فرقہ کے ہاں جملہ جزیات میں قرآن و حدیث سے مطابقت نہیں پائی جاتی۔ پس میں نے فی الجملہ مسلک اہل حدیث کو اپنے لیے پسند کیا ہے پھر کیا میں بھی فرقہ بندی کے الزام کا مورد ٹھہروں گا ؟‘‘

اختلافی مسائل پر امت سازی کا فتنہ

سوال: ’’مجھے مذہبی تنازع اور تفرقہ سے فطری بُعد ہے اور وہ تمام جزئی مسائل جن میں اختلاف کی گنجائش خود شریعت میں موجود ہے ان میں اختلاف کو جائز رکھتا ہوں۔ اسی طرح اگر نبی کریمﷺ سے کسی معاملے میں دو یا تین طریقہ ہائے عمل ثابت ہوں تو ان سب کو جائز اور سنت کی حد کے اندر شمار کرتا ہوں۔ مثلاً نماز میں رفع یدین کرنا اور نہ کرنا میرے نزدیک دونوں برابر ہیں۔ چنانچہ میں ان دونوں صورتوں پر عمل کرلیتا ہوں، کبھی اس پر اور کبھی اس پر۔ مجھے اپنے مسلک پر پورا اطمینان ہے اور میں نے سوچ سمجھ کر اسے اختیار کیا ہے مگر میرے والد مکرم، جو جماعت اسلامی کے رکن بھی ہیں، محض نماز میں رفع یدین کا التزام چھوڑ دینے کی وجہ سے انہوں نے مجھے یہ نوٹس دے دیا ہے کہ اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی تو پھر ہمارے تمہارے درمیان سلام کلام کا تعلق برقرار نہیں رہ سکتا۔ میں نے انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی مگر کامیابی نہ ہوئی۔ اب یہ قضیہ میرے اور والد مکرم کے حلقہ تعارف میں بحث کا موضوع بن گیا ہے اور دونوں کی تائید و تردید میں لوگ زورِ استدلال صرف کر رہے ہیں۔

دلچسپ مین میخ

سوال: مہربانی فرما کر نہایت صاف اور سادہ الفاظ میں مندرجہ ذیل سوالات کا جواب تحریر فرما کر مشکور فرمائیں، تاکہ ان معاملات میں ہماری غلط فہمی اور لاعلمی دور ہو جائے۔

سپاسنامے اور استقبال

سوال: ماہر القادری صاحب کے استفسار کے جواب میں اصلاحی صاحب کا مکتوب جو فاران کے تازہ شمارے میں شائع ہوا ہے، شاید آپ کی نظر سے گزارا ہو۔ میرا خیال ہے کہ زیرِ بحث مسئلہ پر اگر آپ خود اظہارِ رائے فرمائیں تو یہ زیادہ مناسب ہو گا، اس لیے کہ یہ آپ ہی سے زیادہ براہِ راست متعلق ہے۔ اور آپ کے افعال کی توجیہ کی ذمہ داری بھی دوسروں سے زیادہ خود آپ پر ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جب آپ کی خدمت میں یہ سپاسنامے خود آپ کی رضامندی سے پیش ہو رہے ہیں تو آپ اس تمدنی، اجتماعی اور سیاسی ضرورت کو جائز بھی خیال فرماتے ہوں گے۔ لیکن آپ کن دلائل کی بنا پر اس حرکت کو درست سمجھتے ہیں؟ میں دراصل یہی معلوم کرنا چاہتا ہوں اور غالباً ایک ایسے شخص سے جو ہمیشہ معقولیت پسند ہونے کا دعویدار رہا ہو، یہ بات دریافت کرنا غلط نہیں ہے۔ جواب میں ایک بات کو خاص طور پر ملحوظ رکھیے گا اور وہ یہ کہ اگر آپ سپاسنامہ کے اس پورے عمل کو جائز ثابت فرما بھی دیں تو کیا خود آپ کے اصول کے مطابق، احتیاط، دانش کی روش اور شریعت کی اسپرٹ کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ فتنہ میں مبتلا ہونے سے بچنے کے لیے اس سے پرہیز کیا جائے اور کنویں کی مڈیر پر چہل قدمی کرنے کے بجائے ذرا پرے رہا جائے تاکہ پھسل کر کنویں میں گر جانے کا اندیشہ نہ رہے؟

  • 1
  • 2